20 اکتوبر 2026 - 16:56
ایران کے خلاف جنگ کے اثرات، ٹرمپ کی مقبولیت میں ریکارڈ کمی؛ ری پبلکن جماعت میں اختلافات بڑھ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، ایران کے خلاف جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور ری پبلکن جماعت کے اندر اختلافات نے وائٹ ہاؤس کے لیے سیاسی و معاشی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس کے تجزیے کے مطابق، ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کم ہو کر 33 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹس کو قومی سطح پر آٹھ فیصد برتری حاصل ہو گئی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس نیوز آور کے پروگرام ’’پولیٹکس منڈے‘‘ میں تجزیہ کاروں تمارا کیتھ اور کیری ڈین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت اور اس کے ری پبلکن جماعت کے انتخابی امکانات پر اثرات کا جائزہ لیا۔

امریکی نشریاتی ادارے این پی آر سے وابستہ تمارا کیتھ اور سیاسی تجزیاتی جریدے کک پولیٹیکل رپورٹ کی کیری ڈین نے قومی سطح کے تازہ جائزوں، صدر کی سیاسی پوزیشن میں کمزوری اور ری پبلکن جماعت کے غیر انتہا پسند حلقوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی پر گفتگو کی۔

واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور ایپسوس کے مشترکہ تازہ ترین سروے کے مطابق، ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن امریکی شہریوں کی شرح کم ہو کر 33 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کے دونوں صدارتی ادوار کی کم ترین سطح ہے۔

انتخابی تجزیہ کاروں کے مطابق، صدر کی مقبولیت میں کمی براہ راست ان کی جماعت کے امیدواروں کی عوامی قبولیت کو متاثر کرتی ہے۔ اس صورت حال میں ٹرمپ ان حلقوں میں ری پبلکن امیدواروں کے لیے سیاسی بوجھ بن گئے ہیں جہاں انتخابی مقابلہ سخت ہے۔

ٹرمپ سے ناراضی ان کی جماعت کے اندر بھی بڑھ رہی ہے۔ سروے کے مطابق، تقریباً نصف ایسے ری پبلکن ووٹرز ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں جو ’’میک امریکا گریٹ اگین‘‘ (میگا) تحریک سے وابستہ نہیں ہیں۔

روایتی ری پبلکن ووٹروں کی حمایت میں کمی اور جماعت کے اندر اختلافات کے باعث نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹس کو قومی سطح پر آٹھ فیصد برتری حاصل ہو گئی ہے۔ اس صورت حال نے کانگریس میں اپنی اکثریت اور نشستیں برقرار رکھنے کے حوالے سے ری پبلکن جماعت کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

ٹرمپ کی گرتی مقبولیت اور ری پبلکن جماعت میں دراڑیں

انتخابی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ سخت مقابلے والے حلقوں میں ری پبلکن امیدواروں کے لیے انتخابی مشکلات بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے ستمبر میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک نشست کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ امیدواروں کی حمایت کے لیے 35 اہم انتخابی حلقوں کا دورہ کریں گے، لیکن ان کے حالیہ دوروں کے جائزے کے مطابق وہ ان میں سے ایک تہائی سے بھی کم حلقوں میں گئے ہیں۔

اس کے بجائے انہوں نے ان ریاستوں اور حلقوں کا رخ کرنے کو ترجیح دی جہاں ری پبلکن جماعت کی پوزیشن پہلے ہی مضبوط ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے سروے کے مطابق، ٹرمپ کو میگا تحریک کے 94 فیصد حامیوں کی حمایت حاصل ہے، لیکن جماعت کے دیگر ووٹروں کو اپنے ساتھ ملانے میں انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ میگا تحریک سے وابستہ نہ ہونے والے تقریباً نصف ری پبلکن ووٹروں نے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔

اس صورت حال نے روایتی ری پبلکن ووٹروں کو انتخابی عمل میں متحرک کرنے کی جماعتی حکمت عملی کو مشکل بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اوہائیو جیسی روایتی طور پر ری پبلکن جماعت کے زیر اثر ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس نے اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اوہائیو میں سینیٹ کے انتخابی مقابلے پر اشتہاری مہم کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے، جو انتخابی صورت حال میں تبدیلی اور نئے حلقوں میں سخت مقابلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایران کے خلاف جنگ اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات

خارجہ پالیسی اور ملکی معیشت کے محاذ پر ٹرمپ کو ایک اور مشکل کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ فوجی مواصلاتی سیٹلائٹ نظام تک رسائی کے معاملے پر کشیدگی بڑھنے کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری یوکرین کے بحران پر ڈالنے کی کوشش کی۔

تاہم، پروگرام میں شریک تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی عوام اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئے اور وہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف جنگ کو سمجھتے ہیں۔

امریکی ووٹرز ایران کے خلاف جنگ اور پٹرول و دیگر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے درمیان براہ راست تعلق قائم کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں انتخابی اشتہارات پر خرچ ہونے والی رقم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یوکرین سے متعلق اشتہارات پر صرف 20 لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے، جبکہ ایران کے خلاف جنگ اور ایندھن کی قیمتوں سے متعلق اشتہارات پر آٹھ کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم خرچ ہوئی۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ امریکی عوام کی توجہ اس جنگ کے معاشی اثرات پر مرکوز ہے۔

توانائی کے بحران کا دباؤ کم کرنے کے لیے ٹرمپ کی جانب سے روس سے ڈیزل خریدنے کے معاہدے کا اعلان بھی رپورٹ میں ایک عجلت پر مبنی اقدام قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، ایسے اقدامات حکومت کی معاشی پالیسیوں میں بے ترتیبی کو ظاہر کرتے ہیں اور ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکی شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

عوامی مشکلات کے دوران ٹرمپ کی ذاتی ترجیحات پر تنقید

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات اور مہنگائی کے دباؤ کے دوران ٹرمپ کی جانب سے ذاتی نوعیت کے منصوبوں پر توجہ دینے سے بھی عوامی ناراضی بڑھی ہے۔

ان منصوبوں میں واشنگٹن میں واقع عوامی گالف میدان ’’ایسٹ پوٹومک‘‘ کی تزئین و آرائش اور اس سے متعلق قانونی معاملات شامل ہیں۔ ٹرمپ پر الزام ہے کہ وہ حکومتی ذمہ داریوں کے مقابلے میں غیر ضروری امور کو ترجیح دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی شہری اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب لوگ بجلی اور حرارت کے بل ادا کرنے اور کھانے پینے کی ضروری اشیا خریدنے کے درمیان پریشان ہیں تو صدر گالف میدان کی تزئین و آرائش جیسے منصوبوں پر وقت کیوں صرف کر رہے ہیں۔

اس صورت حال کو امریکی حکومت کی انتظامی کمزوری اور عوام کی روزمرہ مشکلات سے حکمرانوں کی دوری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha