اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،بحرین کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک تجزیاتی تحریر میں کہا گیا ہے کہ بحرین کی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی اصطلاح کا استعمال اس کے اصل مفہوم سے ہٹ کر سیاسی مخالفین، کارکنوں، علمائے دین اور شیعہ برادری کے خلاف کارروائیوں کے جواز کے طور پر کیا جا رہا ہے۔
تحریر کے مطابق، دہشت گردی کا بنیادی مفہوم خوف و ہراس پھیلانے اور سیاسی یا مذہبی مقاصد کے حصول کے لیے منظم اور غیر قانونی تشدد یا اس کی دھمکی دینا ہے۔ قتل، بم دھماکے، تخریب کاری اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ تاہم بحرین میں اس اصطلاح کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ان افراد کو بھی اس کے تحت لایا جا رہا ہے جو سیاسی اختلاف رکھتے ہیں، اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں یا حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔
شیعہ علمائے دین کا مؤقف: اصلاح کا راستہ پُرامن جدوجہد ہے
بحرین کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اس تحریر میں ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کے مؤقف کا حوالہ دیا گیا ہے، جنہوں نے دہشت گردی کو تباہ کن راستہ قرار دیتے ہوئے اسے دین اور انسانی اقدار کے منافی بتایا ہے۔
تحریر کے مطابق، آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم نے مختلف مواقع پر واضح کیا کہ اصلاحات کا مطالبہ صرف پُرامن طریقوں سے کیا جانا چاہیے۔ ان سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ اصلاحات کے مطالبے کے لیے دہشت گردی یا پُرامن راستے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دہشت گردی پر مبنی ہر ظالمانہ اقدام، جارحیت اور انسانی جان، عزت و آبرو اور املاک کی حرمت پامال کرنے کی مذمت کی جانی چاہیے، خواہ اس کا مرتکب کوئی فرد، گروہ، جماعت، حکومت یا ریاست ہو۔
تحریر میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ جب کوئی عالم دین کھلے طور پر دہشت گردی اور تشدد کو مسترد کرتا اور پُرامن جدوجہد کی حمایت کرتا ہے تو اسے دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں میں کیسے شمار کیا جا سکتا ہے؟
شیخ علی سلمان کی قید اور ان پر عائد الزامات
تحریر میں بحرین کی سب سے بڑی حکومت مخالف سیاسی جماعت، جمعیت الوفاق، کے سربراہ شیخ علی سلمان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی مختلف مواقع پر تشدد کو مسترد کیا اور سیاسی و قانونی اصلاحات کے حصول کے لیے پُرامن جدوجہد پر زور دیا۔
جمعیت الوفاق کے بیانات میں مسلح تصادم اور تخریب کاری کی مخالفت کرتے ہوئے سیاسی اصلاحات کے لیے پُرامن جدوجہد کو بنیادی حکمت عملی قرار دیا گیا ہے۔
اس کے باوجود شیخ علی سلمان بحرین کی جیل میں قید ہیں اور انہیں قطر کے لیے جاسوسی کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تحریر میں بحرین اور قطر کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا حوالہ دیتے ہوئے اس الزام کی بنیاد اور اسے برقرار رکھنے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بحرین کے علمائے دین اور دینی مدارس کے طلبہ مختلف مواقع پر تشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں، جبکہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے نام پر مذہبی شناخت کو نشانہ بنانے، آزادیوں کو محدود کرنے اور علمائے دین کے خلاف کارروائیوں کو بھی مسترد کرتے ہیں۔
2011 کی تحریک کے بعد دہشت گردی کے الزامات میں اضافہ
تحریر کے مطابق، بحرین میں 1990 کی دہائی کے آغاز سے لے کر 2011 کی تحریک کے بعد تک حکام مختلف مواقع پر دہشت گرد نیٹ ورکس اور تخریبی منصوبوں کو ناکام بنانے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ ان اعلانات کے ساتھ سیاسی کارکنوں پر بیرونی تنظیموں سے تعلقات اور حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں جیسے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
ماضی میں بعض کارکنوں اور گروہوں پر ’’حزب اللہ بحرین‘‘ اور ’’احرار البحرین تحریک‘‘ تشکیل دینے کے الزامات بھی لگائے گئے اور انہیں تخریبی نیٹ ورک قرار دیا گیا۔ تاہم تحریر میں کہا گیا ہے کہ ان الزامات کی سنگینی کے مطابق شواہد ہمیشہ سامنے نہیں لائے گئے۔
فروری 2011 کی تحریک کے بعد بحرین میں سیاسی احتجاج کے بارے میں حکومتی بیانیے میں سلامتی اور دہشت گردی کے پہلو کو زیادہ نمایاں کیا گیا۔ احتجاجی تحریک کے پھیلاؤ کے دوران حکام نے مبینہ نیٹ ورکس اور تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کے اعلانات کیے اور احتجاج کو ایک منظم سلامتی کے منصوبے کے طور پر پیش کیا۔
تحریر کے مطابق، بعد ازاں ان الزامات کا دائرہ کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہا بلکہ شیعہ برادری اور اس کے علمائے دین تک پھیل گیا۔ اس دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب اور لبنان کی حزب اللہ سے مبینہ تعلقات کے الزامات بھی سامنے آئے۔ بعد میں ’’ولایتِ فقیہ کے نیٹ ورکس‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کی گئیں، جن کے ذریعے مذہبی وابستگی کو بھی ان الزامات سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
شیعہ شناخت کو ایران سے وفاداری کے مترادف قرار دینے پر تنقید
تحریر میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا سیاسی اور سماجی حقوق کا مطالبہ کرنے کا مطلب لازماً کسی دوسرے ملک سے وفاداری ہے؟ کیا بحرین کے شیعوں کی مذہبی وابستگی کو بنیاد بنا کر انہیں ایران کے ساتھ سیاسی تعلق یا سازش کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے؟
اس میں کہا گیا ہے کہ بحرین کے شیعہ اپنے ملک میں رہنے والے شہری ہیں اور اپنی سرزمین، تاریخ اور معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی مذہبی وابستگی کو غداری یا سازش کی علامت قرار دینا درست نہیں۔
تحریر کے مطابق، بحرین کے شیعہ اپنے ملک پر قبضے کے خواہاں نہیں اور نہ ہی وہ بحرین کو علاقائی تنازعات کا میدان بنانا چاہتے ہیں۔ سیاسی حقوق کا مطالبہ غداری نہیں، اصلاحات کی خواہش حکومت کا تختہ الٹنے کے مترادف نہیں، آزادیوں کا مطالبہ ہتھیار اٹھانے کے برابر نہیں اور حکومتی پالیسیوں کی مخالفت بیرونی سازش کا ثبوت نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی یا سیاسی مخالفین کا تعاقب؟
تحریر کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ہر مخالف کو دہشت گرد، ہر عالم دین کو ملزم اور حقوق کے ہر مطالبے کو بیرونی سازش قرار دینا دہشت گردی کے خلاف حقیقی جدوجہد کے بجائے اس اصطلاح کا سیاسی استعمال ہے۔
اس میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر دہشت گردی سے مراد قتل، بم دھماکے، تخریب کاری اور خوف و ہراس پھیلانا ہے تو پُرامن اصلاحات کا مطالبہ اس تعریف میں کیسے شامل ہو سکتا ہے؟ اسی طرح، اگر دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا مقصد معاشرے اور ریاست کا تحفظ ہے تو انہیں سیاسی مخالفین اور علمائے دین کے تعاقب کا ذریعہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
آپ کا تبصرہ