اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آبنائے باب المندب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا سعودی عرب کا منصوبہ ناکام ہوچکا ہے، کیونکہ جن گروہوں نے ریاض کو چند روز میں اس اہم عالمی آبی گزرگاہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، وہ اس کے جنوبی حصے میں بھی اپنی پوزیشن برقرار نہ رکھ سکے۔ یہ صورت حال اس وقت سامنے آئی جب سعودی فضائیہ نے ان گروہوں کو بڑے پیمانے پر فضائی مدد فراہم کی۔ اس دوران تباہی پھیلانے کی حکمت عملی بھی اختیار کی گئی تاکہ اہم جزیرے میون کے قریب ترین مقام تک پیش قدمی کا راستہ ہموار کیا جاسکے۔
لبنانی اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، ریاض کی توقعات کے برعکس یمنی مسلح افواج مغربی ساحل اور باب المندب کے علاقے میں اپنی کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔ انہوں نے آبنائے باب المندب اور ذوباب ضلع کے ساحلی علاقوں کے دفاعی مؤقف سے آگے بڑھ کر حملہ آور حکمت عملی اختیار کرلی۔ اس صورت حال نے سعودی کمان کی جانب سے اس کارروائی کے لیے منتخب کیے گئے العمالقہ اور درع الوطن نامی مسلح گروہوں کو آبنائے باب المندب کے جنوب میں اپنی پوزیشنیں چھوڑنے پر مجبور کردیا۔
آبنائے باب المندب اور جزیرہ میون پر کنٹرول کے دعوے کے بعد سعودی فضائی حملے
سعودی ذرائع ابلاغ اور یمن میں سعودی سفیر محمد آل جابر کی جانب سے یہ دعویٰ کیے جانے کے بعد کہ ریاض کے حامی گروہوں نے آبنائے باب المندب اور جزیرہ میون پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے، سعودی جنگی طیاروں نے دو روز قبل رات کے وقت جزیرے پر متعدد فضائی حملے کیے۔ ان حملوں سے یہ بات سامنے آئی کہ سلفی مسلح گروہ جزیرے کی جانب کوئی قابل ذکر پیش قدمی کرنے میں ناکام رہے تھے۔
یمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک فوجی ذریعے نے کہا کہ جزیرہ میون کو نشانہ بنانے سے آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت کی سلامتی خطرے میں پڑتی ہے۔ اس ذریعے نے بحری گزرگاہ کی سلامتی کمزور کرنے اور عالمی تجارت کے راستے کو خطرے میں ڈالنے کا ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیا۔
اس ذریعے کے مطابق، یمنی مسلح افواج گزشتہ عرصے کے دوران آبنائے باب المندب کی سلامتی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں اور سعودی بحری جہازوں کے سوا تمام عالمی جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت کی براہ راست نگرانی کرتی رہی ہیں۔
سعودی حمایت یافتہ گروہوں کی آبنائے باب المندب کے جنوب سے پسپائی
جزیرہ میون پر سعودی حملے، جس کے ذریعے یمنی مسلح افواج بحری آمدورفت کی نگرانی کرتی ہیں، ایسے وقت میں ہوئے جب ریاض کے حامی مسلح گروہ آبنائے باب المندب کے جنوبی علاقے سے اچانک پسپا ہوگئے۔
میدانی ذرائع نے اخبار الاخبار کو بتایا کہ درع الوطن گروہ کے بعض دستے گزشتہ روز ذوباب ضلع کے جنوب مغربی اور مشرقی علاقوں کے علاوہ صوبہ لحج کے مغرب میں واقع رأس العارہ سے پیچھے ہٹ گئے اور خور عمیرہ اور شہر عدن کی جانب روانہ ہوگئے۔ یہ پسپائی العمالقہ گروہ کے مزید دستوں کے رأس العارہ کے متعدد ٹھکانوں سے نکلنے کے چند گھنٹے بعد ہوئی۔
یہ پسپائی اس وقت عمل میں آئی جب یمنی مسلح افواج نے رأس العارہ کے علاقے میں واقع السقیا کے مقام پر ان گروہوں کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے، جن میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ یہ پیش رفت رواں ہفتے کے وسط میں ذوباب کے مشرقی حصے میں یمنی مسلح افواج کی فوجی کارروائی کے بعد سامنے آئی۔
سعودی حمایت یافتہ گروہوں کے اجتماع پر میزائل حملے، متعدد کمانڈر ہلاک
یمنی مسلح افواج نے المضاربہ کے علاقے میں پسپا ہونے والے درع الوطن گروہ کے خلاف حملوں میں مزید شدت پیدا کردی۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق، دو روز قبل رات کے وقت رأس العارہ اور المضاربہ کے علاقوں میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے اجتماع کو تین بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول، اس حملے میں ان گروہوں کے متعدد کمانڈر اور اہلکار ہلاک ہوئے۔
میدانی ذرائع کی معلومات کے مطابق، اس کارروائی میں درع الوطن گروہ کی پانچویں بریگیڈ کو نشانہ بنایا گیا، جو الصبیحہ کے علاقے میں ان مقامات پر حملے کی تیاری کررہی تھی جو پہلے ہی یمنی مسلح افواج کے کنٹرول میں آچکے تھے۔
حملے میں بریگیڈ کے کمانڈر منصور الترکی اپنے بیٹے اور متعدد ساتھیوں سمیت زخمی ہوگئے، جبکہ بریگیڈ کے چیف آف اسٹاف ودیع البہاء اور آپریشنز کے ذمہ دار محمد عبدہ حجیف المشولی سمیت متعدد افسران ہلاک ہوگئے۔
بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے گزشتہ روز رات کو یہ بھی بتایا کہ عدن شہر کے معاشیق محل میں مغربی ساحلی علاقے کے آپریشنز کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس مرکز کو سعودی افسران چلاتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس مرکز سے وابستہ اسلحے کے گوداموں پر بھی حملہ کیا گیا۔
سعودی عرب کی جانب سے دوبارہ صف بندی اور پیش قدمی کی کوشش
ان واقعات کے باوجود، یمن کے جنوبی صوبوں میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ سعودی عرب اپنے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو دوبارہ منظم کرکے آبنائے باب المندب کی جانب کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔
صنعا کے ذرائع اس سے قبل بتا چکے تھے کہ آبنائے باب المندب کے جنوب میں کھلے علاقے سے پیش قدمی کی کوشش کے دوران ان گروہوں کے 400 سے زیادہ اہلکار ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
ان ذرائع کے مطابق، سعودی منصوبے کے ابتدائی دنوں میں یہ گروہ ذوباب کے فوجی ہوائی اڈے کے کنارے تک پہنچنے اور چند گھنٹوں کے لیے اس کے مغربی حصے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ تاہم، یمنی مسلح افواج نے فوری جوابی کارروائی کی، جس میں العمالقہ بریگیڈز کے نشانات والی بکتر بند گاڑیاں استعمال کی گئیں۔ یہ گاڑیاں اس سے پہلے مخا کے علاقے میں قبضے میں لی گئی تھیں۔
اس کارروائی کے نتیجے میں یمنی مسلح افواج نے دوبارہ ذوباب کے ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا، آبنائے باب المندب تک جانے والے تمام علاقوں کو محفوظ بنایا اور جزیرہ میون کے دفاع کے لیے ضروری فوجی اقدامات کیے۔ ان اقدامات کے باعث سعودی عرب کے حمایت یافتہ گروہوں کی پیش قدمی ناممکن ہوگئی۔
العمالقہ اور درع الوطن کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات
فوجی کارروائی کی ناکامی کے بعد سعودی عرب کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے درمیان اختلافات بھی شدت اختیار کرگئے۔
الصبیحہ کے علاقے میں العمالقہ بریگیڈز، جو پہلے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ گروہوں میں شامل تھے اور بعد میں سعودی عرب سے وفاداری کا اعلان کرچکے تھے، نے الزام لگایا کہ یمنی مسلح افواج کے ساتھ لڑائی کے دوران ریاض نے انہیں فضائی مدد فراہم نہیں کی۔
اس کے برعکس، سعودی عرب کے حمایت یافتہ درع الوطن گروہ نے العمالقہ پر یمنی مسلح افواج کے ساتھ ملی بھگت کا الزام عائد کیا۔ اس گروہ کا دعویٰ تھا کہ العمالقہ نے یمنی مسلح افواج کو ان اہم پہاڑی مقامات پر قبضہ کرنے کا موقع دیا جو مغربی ساحل کی رسد کے راستوں پر نظر رکھتے ہیں۔
ایک دوسرے پر الزامات، فوجی پسپائی اور بھاری جانی نقصان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی یمن میں سعودی عرب کے حامی گروہوں کے درمیان اختلافات اور دراڑیں بڑھ رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ