بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جیفری ساکس (Jeffrey Sachs) نے رشیا ٹوڈے (RT) کے پروگرام "Going Underground" کو دیئے گئے انٹرویو میں ایران کے خلاف امریکی - صہیونی فوجی جارحیت پر تنقید کی۔
پیر (12 اکتوبر 2026ع) کے روز نشر ہونے والے اس انٹرویو میں انھوں نے ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں اس نے ایران کے ساتھ امریکی صدور کے جنگ شروع نہ کرنے کا حوالہ دیا، جس میں اس نے کہا: "میں ٹرمپ اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ چھ سابق صدور نے اس جنگ کی مخالفت کی لیکن میں نے یہ کر کے دکھایا۔"

جیفری ساکس نے کہا:
- میں نہیں سمجھتا کہ یہ فخر کی بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس عہدے پر اب تک کی سب سے چونکا دینے والی نااہلی کی علامت ہے۔
- ایران کے ساتھ جنگ، جو کہ ایک جارحانہ جنگ اور اس سال 28 فروری کو ایران کی قیادت کے قتل سے شروع ہوئی، مغربی ایشیا سے امریکی انخلاء پر ہی، آسانی سے ختم ہو جائے گی۔
- اگر امریکہ نکل جائے تو ایرانی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیں گے تاکہ تیل فروخت کر سکیں، اور خلیج فارس کا باقی علاقہ بھی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جائے گا۔
- ان تنازعات کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ بلا شبہ یہ امریکہ تھا جس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر اس معاملے کو ہوا دی۔ یہ امریکہ تھا جس نے اسے جاری رکھا۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جنگ (حتی کہ) ایک گھنٹہ مزید جاری رہے۔
- میرے نقطہ نظر سے، امریکہ کو واپس جانا چاہئے اور گھر جانا چاہئے۔۔۔ اگر تم نے کوئی انتہائی احمقانہ کام کیا ہے تو اسے روک دو۔
واضح رہے کہ اب تک متعدد سیاستدان اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت پر تنقید کر چکے ہیں۔ ماہرین نے اس تنازع کے نتائج اور دنیا میں توانائی کے بحران کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے جنگ شروع کرنے سے امریکی مقاصد کو نامعقول اور ناجائز قرار دیا ہے اور زور دیا ہے کہ واشنگٹن اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ