اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تیونس کی جامع زیتونہ کے عالم اور شہر سلیمان کی مسجد حنفی کے امام احمد الغربی نے ایک تحریر میں وہابی فکر کے پھیلاؤ اور اس کے انتہا پسندی سے تعلق کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ ان کی تحریر کا ایک حصہ درج ذیل ہے:
اسلامی معاشروں کی تاریخ میں مذہبی انتہا پسندی کوئی نئی بات نہیں، تاہم موجودہ دور میں بعض فکری تحریکوں نے دین کی سخت گیر تشریحات کے ذریعے تعصب اور شدت پسندی کو فروغ دیا ہے۔ دین کے مقاصد سے ناواقفیت، نوجوانوں کا دینی علما سے دور ہونا اور نئی نسل کا علمی و دینی رہنمائی کے مراکز سے کمزور تعلق ان عوامل میں شامل ہیں جو فکری گمراہی اور اندھی تقلید کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
ان عوامل کے ساتھ سماجی اور معاشی مسائل بھی بعض نوجوانوں کے انتہا پسند تحریکوں کی طرف مائل ہونے میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ جب نوجوان نسل کے فکری تقاضوں اور مذہبی سوالات کے جواب نہیں ملتے تو ایسے گروہوں کے لیے انہیں اپنی طرف راغب کرنا آسان ہو جاتا ہے جو مذہبی نعروں کی آڑ میں اپنی سخت گیر تشریحات کو فروغ دیتے ہیں۔
مغربی عرب خطے کے ممالک میں مالکی مذہب کو تاریخی اور گہری جڑوں کی حامل حیثیت حاصل رہی ہے۔ تاہم فقہ کی بعض دوسری تحریکوں، بالخصوص حنبلی اور وہابی فکر سے متاثر رجحانات کے پھیلاؤ نے اس روایتی دینی رہنمائی کی حیثیت کمزور ہونے کے خدشات پیدا کیے ہیں۔
متعدد فتووں کا سامنے آنا اور ایک دوسرے سے متضاد احکام جاری ہونا، بالخصوص مذہبی سیٹلائٹ چینلوں اور انٹرنیٹ ویب سائٹس کے ذریعے، عوام میں الجھن پیدا کرنے اور فقہی ہم آہنگی کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورت حال کے مقابلے میں مالکی مذہب کی علمی صلاحیتوں کو دوبارہ فعال بنانا اور علما کے درمیان اجتماعی اجتہاد کو مضبوط کرنا ایک ایسا حل قرار دیا گیا ہے جس کے ذریعے نئے مسائل کا جواب دیا جا سکتا ہے اور دین کی سخت گیر تشریحات کے پھیلاؤ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
وہابی فکر پر ہونے والی تنقیدوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی بعض سخت گیر تشریحات نے عصر حاضر کی سلفی جہادی تحریکوں کو متاثر کیا ہے۔ اس تنقیدی نقطۂ نظر کے مطابق، بعض انتہا پسند گروہوں نے طاغوت اور حاکمیت جیسے تصورات کی مخصوص تشریحات کے ذریعے حکمرانوں کے خلاف مسلح تصادم اور اسلامی معاشروں کے نظم و ضبط کو درہم برہم کرنے کے اقدامات کو جائز قرار دینے کی کوشش کی ہے۔
اس تناظر میں انتہا پسندی کا مقابلہ صرف سکیورٹی اقدامات تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ دینی تعلیم کی اصلاح، نوجوانوں کے علما سے تعلق کو مضبوط بنانے اور اسلام کی معتدل تشریحات کو فروغ دینے کی بھی اہمیت ہے۔
اسی طرح مساجد اور دینی ذرائع ابلاغ تعصب اور نفرت کے پھیلاؤ کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ تشدد اور اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے لوگوں کے مذہبی سوالات اور حقیقی مسائل کے جوابات دیں اور رحمت، رواداری اور باہمی ہم آہنگی کی اقدار کو فروغ دیں۔
آپ کا تبصرہ