12 اکتوبر 2026 - 16:16
کراچی میں ’’شہید رہبر انقلاب اسلامی کے فکری نظام میں توحید کا مقام‘‘ کے موضوع پر علمی نشست

پاکستان کے شہر کراچی میں جامعۃ المصطفیٰ (ص) میں ’’شہید رہبر انقلاب اسلامی کے فکری نظام میں توحید کا مقام‘‘ کے موضوع پر علمی نشست منعقد ہوئی، جس میں اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ نشست میں توحید کو صرف ایک اعتقادی اصول نہیں بلکہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیاد کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کے شہر کراچی میں جامعۃ المصطفیٰ (ص) میں ’’شہید رہبر انقلاب اسلامی کے فکری نظام میں توحید کا مقام‘‘ کے موضوع پر علمی نشست منعقد ہوئی، جس میں اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔

اس نشست سے حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے شہید رہبر انقلاب اسلامی کی فکر اور تحریروں میں توحید کے مقام کو واضح کیا اور اس بنیادی دینی اصول کے بارے میں ان کے افکار سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ توحید صرف ایک نظری عقیدہ نہیں بلکہ اسے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیاد بننا چاہیے۔

انہوں نے انبیائے الٰہی کی دعوت میں توحید کی بنیادی حیثیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت آدمؑ سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک تمام انبیائے الٰہی کی دعوت خدا کی وحدانیت اور اس کی بندگی کے محور پر قائم رہی۔ رسول اسلام ﷺ نے بھی اپنی دعوت کا آغاز توحید کے پیغام سے کیا اور اس حقیقت کو عام کرنے کے راستے میں مشکلات اور اذیتوں کا سامنا کیا۔

یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ توحید صرف دینی تعلیمات میں سے ایک تعلیم نہیں بلکہ ایک بنیادی حقیقت ہے جس پر پورا دین قائم ہے۔ انبیائے الٰہی کی دعوت کا بنیادی مقصد بھی انسان کو غیر خدا کی بندگی سے آزاد کرکے حقیقی پروردگار کی بندگی کی طرف رہنمائی کرنا تھا۔

توحید کا عملی زندگی اور معاشرتی تعلقات میں اظہار ضروری ہے

مقرر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ توحید صرف خدا کی وحدانیت کو ماننے اور اس کا کوئی شریک نہ ہونے کا اقرار کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس عقیدے کے اثرات انسان کے کردار، فیصلوں اور انتخاب میں بھی ظاہر ہونے چاہئیں۔

اگر کوئی شخص خدا کی وحدانیت کا اقرار کرے لیکن عملی زندگی میں الٰہی احکامات کو نظر انداز کرے تو اسے اپنے ایمان اور کردار کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ حقیقی توحید انسان کو خدا کی اطاعت، عدل کے قیام، حق کی حمایت اور دوسروں کے حقوق کی رعایت کی طرف لے جاتی ہے۔

یہ اصول صرف ذاتی زندگی تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی ڈھانچے اور باہمی تعلقات میں بھی نمایاں ہونا چاہیے۔ توحید کی بنیاد پر قائم معاشرے میں عدل، انسانی حقوق اور الٰہی ہدایت کو بنیادی مقام حاصل ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے توحید فرد اور معاشرے کی اصلاح کا ایک معیار ہے۔

قرآن کی تنبیہ؛ خواہشات نفس کی بندگی سے بچنے کی ضرورت

ڈاکٹر ہاشمی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں سورۂ جاثیہ کی آیت 23 کی طرف اشارہ کیا: ’’کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا؟‘‘ اور خواہشات نفس کی غلامی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔

قرآنی تعلیمات کے مطابق جب انسان اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کو الٰہی ہدایت پر مقدم رکھتا ہے اور فیصلوں میں خدا کے احکامات سے دور ہوجاتا ہے تو وہ اخلاقی اور دینی زوال کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

اس لیے توحید کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی خواہشات، مفادات اور فیصلوں کو الٰہی ہدایت کے دائرے میں رکھے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں خدا کی رضا کو ترجیح دے۔

انسانوں کی غیر مشروط اطاعت؛ توحید کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ

مقرر نے حقیقی عبادت کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے سورۂ توبہ کی آیت 31 کی طرف بھی اشارہ کیا، جس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے علما اور راہبوں کو خدا کا درجہ دے دیا۔

اس آیت کی وضاحت کے حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ اہل کتاب میں سے بعض لوگ جب ان کے علما اور راہب کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دیتے تو ان کے حکم کو قبول کرلیتے تھے۔

یہ روایت دینی رہنمائی کی پیروی اور خدا کے حکم کے مقابلے میں انسانوں کے احکامات کو غیر مشروط طور پر قبول کرنے کے درمیان فرق کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اس اعتبار سے بندگی صرف ظاہری سجدے یا کسی کو خدا کہنے تک محدود نہیں بلکہ احکام اور ہدایات کے معاملے میں اطاعت اور پیروی بھی اس کا اہم حصہ ہے۔

اس لیے انسان کو اپنے عقائد، کردار اور فیصلوں میں الٰہی ہدایت کو بنیادی معیار قرار دینا چاہیے اور حقیقی بندگی کو صرف خدا کے لیے مخصوص رکھنا چاہیے۔

دینی تعلیم کا مقصد؛ علم کو عمل میں تبدیل کرنا

نشست کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ دینی تعلیم کا مقصد صرف معلومات اور نظری علم حاصل کرنا نہیں بلکہ عقائد کی اصلاح، اخلاق کی تربیت اور انفرادی و اجتماعی کردار کو بہتر بنانا بھی ہے۔

اس بنیاد پر توحید کی تعلیمات صرف کتابوں، علمی مباحث اور تقریروں تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ روزمرہ زندگی، فیصلوں، انفرادی اخلاق اور معاشرتی ذمہ داریوں میں بھی ان کا عملی اظہار ہونا چاہیے۔

نشست میں پیش کیے گئے مباحث کی بنیاد پر خدا کی بندگی، الٰہی احکامات کی اطاعت اور خدا کی رضا کو زندگی کے تمام شعبوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ یہ طرزِ فکر توحید کو محض ایک نظری تصور کے بجائے انفرادی زندگی کی رہنمائی اور معاشرے کی اصلاح کے لیے ایک بنیادی اصول میں تبدیل کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha