اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے آج اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یمن کی انصار اللہ کے حالیہ حملے کی شدید مذمت کی، تاہم سعودی عرب کی جانب سے یمن پر کیے جانے والے حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
شہباز شریف نے اپنے پیغام میں لکھا: ’’میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی مسلح گروہ کے وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ہم جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔‘‘
اس سے قبل یمن کی انصار اللہ کے سینئر رکن محمد البخیتی نے اخبار نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ہفتے کے روز ریاض پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ کارروائی سعودی عرب کے حملوں، بالخصوص یمن کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی۔
البخیتی نے کہا کہ اس حملے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ یمن کے ہوائی اڈے، بندرگاہیں، شادی اور تعزیتی تقریبات کے مراکز، اسپتال اور بازار شہری تنصیبات ہیں؛ انہیں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور نہ ہی انہیں نقصان پہنچایا جانا چاہیے۔
تاہم، شہباز شریف نے یمن پر سعودی عرب کے حملوں کا ذکر کیے بغیر مزید کہا: ’’شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں اور یہ خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ تشدد کے ایسے اقدامات، جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔‘‘
آخر میں ریاض کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا: ’’پاکستان مملکتِ سعودی عرب، اس کی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعلان کرتا ہے۔ مکہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے اور دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کی بنیاد پر ہم ایک بار پھر سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔‘‘
آپ کا تبصرہ