10 اکتوبر 2026 - 18:19
مہنگائی اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات؛ امریکی صارفین کے معاشی اعتماد میں کمی: رائٹرز

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اکتوبر کے آغاز میں امریکی صارفین کے معاشی اعتماد میں مزید کمی آئی ہے، جس کی اہم وجوہات روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات ہیں۔ رائٹرز نے اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بری خبر قرار دیا ہے، کیونکہ کانگریس کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا ہے کہ اکتوبر کے آغاز میں امریکہ میں صارفین کے معاشی اعتماد کا اشاریہ ایک بار پھر گر گیا۔ اس کی وجوہات میں زندگی کے اخراجات میں اضافہ اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات شامل ہیں۔

رائٹرز کے مطابق، امریکی صارفین کے معاشی اعتماد کا اشاریہ ایک اقتصادی پیمانہ ہے، جس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ صارفین اپنی مالی حالت، معیشت کی موجودہ صورت حال اور مستقبل کے معاشی امکانات کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور معیشت کی بہتری یا کمزوری کے حوالے سے کتنے پُرامید یا مایوس ہیں۔

امریکہ میں صارفین کے معاشی اعتماد کا اشاریہ اور صارفین کے اعتماد کا اشاریہ، دونوں ہی گھرانوں کی معاشی صورت حال کے بارے میں رائے جانچنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، تاہم ان کے جاری کرنے والے ادارے، حساب لگانے کے طریقے اور جائزے کے پہلو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

رائٹرز نے امریکی صارفین کے معاشی اعتماد میں کمی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بری خبر قرار دیا، کیونکہ 3 نومبر (13 آبان) کو کانگریس کے وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ادارے نے لکھا کہ مشی گن یونیورسٹی کا تازہ سروے ان متعدد جائزوں میں شامل ہے جن کے ذریعے امریکی عوام کی اپنے ملک کی معاشی صورت حال کے بارے میں رائے معلوم کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی عوام بلند مہنگائی اور قرض لینے کے بڑھتے اخراجات کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، معیشت کے حوالے سے کمزور کارکردگی کے باعث ٹرمپ کی مقبولیت ان کے سیاسی سفر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

مشی گن یونیورسٹی کے سروے کے مطابق، رواں ماہ امریکی صارفین کے معاشی اعتماد کا اشاریہ گزشتہ ماہ ستمبر کے مقابلے میں 48.1 سے کم ہو کر 46.3 پر آ گیا۔

صارفین کے اعتماد میں مسلسل تیسرے ماہ کمی کے باعث یہ اشاریہ مئی میں ریکارڈ کی گئی اپنی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔

رائٹرز کے سروے میں شریک ماہرینِ معیشت نے رواں ماہ امریکی صارفین کے معاشی اعتماد کے اشاریے کی سطح 47.8 رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔

صارفین کے معاشی اعتماد میں کمی کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ ان کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی، کیونکہ گزشتہ برسوں کے دوران ان دونوں کے درمیان تعلق کمزور ہوا ہے۔

امریکی معیشت کی صورت حال بھی اس نمونے سے ملتی ہے جسے ماہرینِ معیشت ’’کے شکل کی معیشت‘‘ کہتے ہیں۔ اس صورت حال میں زیادہ آمدنی والے گھرانوں کی مالی حالت، بڑی حد تک حصص بازار کی مضبوط کارکردگی کے باعث، بہتر رہتی ہے، جبکہ درمیانی اور کم آمدنی والے گھرانے بجٹ کے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

مشی گن یونیورسٹی کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق، توقع ہے کہ امریکی صارفین میں سے ایک تہائی سے بھی کم افراد آئندہ سال ان اشیا پر معمول کے مطابق خرچ کریں گے جن کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اس دوران، 54 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اپنی خریداری کم کر دیں گے، جبکہ تقریباً 16 فیصد صارفین نے بتایا کہ وہ خریداری مکمل طور پر روک دیں گے۔

امریکی مرکزی بینک نے گزشتہ ماہ بنیادی شرحِ سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافہ کیا، جس کے بعد یہ شرح 3.75 سے 4.00 فیصد کی حد میں پہنچ گئی۔ یہ تین سال کے دوران شرحِ سود میں پہلا اضافہ تھا۔

ستمبر میں ملازمتوں اور تنخواہوں کے اعداد و شمار توقعات سے مایوس کن رہنے اور جولائی و اگست میں مہنگائی کی شرح اندازوں سے کم ہونے کے باعث رواں ماہ شرحِ سود میں ایک اور اضافے کا امکان کم ہو گیا ہے۔ تاہم، ماہرینِ معیشت توقع کرتے ہیں کہ امریکی مرکزی بینک دسمبر میں ایک بار پھر شرحِ سود بڑھا دے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha