اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، المیادین نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک انتخابی اجتماع کے دوران مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر بار بار روک دی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تقریباً 10 افراد کو اجتماع کے مقام سے باہر نکال دیا گیا۔
گزشتہ رات ٹیکساس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے دوران مظاہرین کے ایک گروہ نے متعدد بار ان کی تقریر جاری رکھنے میں رکاوٹ ڈالی۔ ٹرمپ نے ان مظاہرین کو ’’کرائے کے ایجنٹ‘‘ قرار دیا، جبکہ اجتماع میں موجود ٹرمپ اور امریکی ریپبلکن پارٹی کے حامیوں نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف احتجاج کیا اور امریکہ کی حمایت میں نعرے لگائے۔
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ اجتماع سے باہر نکالے جانے والے مظاہرین میں سے ایک شخص مجمع کی شدید ہوٹنگ کے دوران اپنے آپ کی ویڈیو بنا رہا تھا۔ ایک اور شخص ایسی ٹی شرٹ پہنے ہوئے نظر آیا جس پر ’’کیوبا کو بچاؤ‘‘ کا نعرہ درج تھا۔ کیوبا اس وقت امریکہ کی سخت پابندیوں کی زد میں ہے۔
وسط مدتی انتخابات اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا دباؤ
نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو متحرک کرنے کے لیے انتخابی اجتماعات میں اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم متعدد جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے حالات زیادہ امید افزا نہیں ہیں۔
ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھونے کا خدشہ ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں ٹرمپ کو قانون ساز ادارے کی جانب سے نئی پوچھ گچھ اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی نظام حکومت میں کانگریس صدر کے اختیارات کی نگرانی اور ان پر پابندی عائد کرنے کی ذمہ داری بھی ادا کرتی ہے۔
دوسری جانب روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات بھی انتخابی مہم کا ایک اہم مسئلہ بن گئے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافے کے باعث امریکی عوام کی معاشی صورتحال خراب ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ اضافہ ’’مشرق وسطیٰ‘‘ میں جنگ اور ایران پر امریکی حملے کے نتیجے میں ہوا ہے۔ دوسری جانب تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد تیل اور گیس کی قیمتوں میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے۔
آپ کا تبصرہ