7 اکتوبر 2026 - 16:14
ایرانی اور عراقی ثقافتی کارکنوں کی ’’امریکا مردہ باد کیوں؟‘‘ مہم میں شرکت کی اپیل

ایرانی اور عراقی ثقافتی کارکنوں کے ایک گروپ نے عراق میں امریکی پرچم کی بے حرمتی سے متعلق حالیہ تنازع کے بعد ’’امریکا مردہ باد کیوں؟‘‘ کے عنوان سے مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد ایران اور عراق سمیت مختلف اسلامی ممالک میں امریکا مخالف اس نعرے کی وجوہات بیان کرنا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حالیہ حشد الشعبی پریڈ کے دوران عراقی مزاحمتی عوام نے امریکی پرچم کو اپنے قدموں تلے روندا، جس کے بعد عراقی وزیر اعظم نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے جرم قرار دیا ہے۔

میڈیا کارکن محمد حسین امیدی نے ایک تحریر میں کہا ہے کہ عراق ایک انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار ہے، تاہم یہ صورتحال ایک بڑے موقع میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق، حالیہ حشد الشعبی پریڈ میں عراقی مزاحمتی عوام نے امریکی پرچم کو اپنے قدموں تلے روندا، لیکن اب عراق کے مغرب نواز وزیر اعظم نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے جرم قرار دیا ہے اور مزاحمت سے وابستہ متعدد نوجوانوں کی گرفتاری کے لیے سرکاری سکیورٹی فورسز کو متحرک کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان اور ایران کی طرح عراق میں بھی تسلیم اور مزاحمت کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ مغربی محاذ اور اس کے حامی خطے کے ممالک میں مزاحمت کی سوچ اور ثقافت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ بلا رکاوٹ اپنا نرم اور سخت اثر و رسوخ قائم کرسکیں، جبکہ ان کی ہر کارروائی ایک زیادہ خطرناک قدم کی تمہید ہے۔

امیدی کے مطابق، عالمی استکبار کا دشمن ہونا اور اس کے خلاف دشمنی رکھنا ایک فطری امر ہے، لیکن خطے کی حکومتوں کی جانب سے ایسا گھٹن زدہ ماحول پیدا کرنا کہ مظلوم عوام اپنے دشمن کے خلاف براءت کا اظہار کرنے کی بھی جرأت نہ کریں، انتہائی خطرناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی قوتیں تاریخ میں اس وقت ہمارے مقابلے میں کامیاب ہوئیں جب ہم نے ان کی دشمنی کو محسوس نہیں کیا اور ان کی سرگرمیوں سے غافل رہے۔ نتیجتاً ہم نے مزاحمت نہیں کی اور ہمیں ان کی نرم مداخلت اور اچانک کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بقول، اب عراق میں دشمن کو نظر انداز کرنے کا عمل طاقت اور سرکاری دباؤ کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

اس صورتحال میں انہوں نے ایران کے مزاحمتی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ کردار ادا کریں۔ ان کی تجویز ہے کہ ایران کی سڑکوں پر امریکی پرچم کو جلانے اور اسے قدموں تلے روندنے کی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرکے عراق کے عوام تک پہنچائی جائیں۔ ان کے مطابق، عراق کے مزاحمتی عوام سے یکجہتی کا پیغام بھی تیار کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایران اور عراق کے مزاحمتی عوام کے درمیان فعال رابطہ قائم ہوگا۔ انہوں نے اس کے لیے رواں ہفتے جمعرات کا دن تجویز کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’امریکا مردہ باد‘‘ کا نعرہ اور اس سے وابستہ علامتیں ایرانی قوم کا نعرہ ہیں جو اب علاقائی اور عالمی سطح پر بھی پھیل چکی ہیں، اس لیے خطے اور دنیا میں اپنی سوچ اور ثقافت کا تحفظ کرنا ضروری ہے۔

عراقی عوامی کارکنوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور باہمی رابطے کے بعد ایرانی اور عراقی کارکنوں کے درمیان عوامی و ابلاغی تعاون قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امریکی پرچم سے متعلق حالیہ واقعے اور عراقی حکومت کے مؤقف کے پیش نظر طے کیا گیا ہے کہ ایران میں ویڈیوز تیار کی جائیں جن میں بتایا جائے کہ ’’امریکا مردہ باد‘‘ کیوں کہا جاتا ہے، پھر یہ ویڈیوز عراقی کارکنوں کو بھیجی جائیں تاکہ وہ ان پر عربی سب ٹائٹل لگا کر انہیں نشر کریں۔

اسی طرح عراقی کارکن بھی ایسی ویڈیوز تیار کریں گے جن میں وہ وضاحت کریں گے کہ وہ امریکا مردہ باد کیوں کہتے ہیں۔ یہ ویڈیوز ایرانی کارکنوں کو بھیجی جائیں گی تاکہ ان پر فارسی سب ٹائٹل لگا کر انہیں نشر کیا جاسکے۔

اس مہم کے منتظمین نے ایسے ثقافتی کارکنوں کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے جو بین الاقوامی سطح پر اثرانداز ہونا چاہتے ہیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ویڈیوز تیار کرکے ارسال کریں تاکہ ان کی آواز ملک سے باہر تک پہنچائی جاسکے۔

ان ویڈیوز میں امریکا مردہ باد کہنے کی وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں، جن میں ایران اور خطے کے خلاف انقلاب اسلامی سے قبل اور اس کے بعد امریکا کی مداخلت، تخریب کاری، ظلم اور وعدہ خلافیاں، نیز دنیا کے مختلف حصوں میں امریکی اقدامات کے نتیجے میں ہونے والے مظالم شامل ہیں۔ منتظمین نے کہا ہے کہ رات کے اجتماعات ان ویڈیوز کی تیاری کے لیے موزوں موقع ہیں۔ اسی طرح ’’امریکا مردہ باد کیوں؟‘‘ کے سوال کا جواب پلے کارڈ پر لکھ کر اس کی تصویر بھی بھیجی جاسکتی ہے۔

منتظمین نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ امریکی پرچم جلانے کی صورت میں اس کی تصویر بھی ارسال کی جائے۔ اس سرگرمی کے لیے بدھ کی رات سے جمعہ کی رات تک کا وقت تجویز کیا گیا ہے، جب سڑکوں پر زیادہ سرگرمی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھانا کوئی غیر معمولی کام نہیں۔ ایرانی عوام کے نمائندے کی حیثیت سے اپنے عوام کے جذبات دنیا تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ویڈیوز اور تصاویر کی تیاری ایرانی اور عراقی کارکنوں کے باہمی تعاون سے ہوگی، جبکہ انہیں عراق میں موجود کارکنوں کے ذریعے نشر کیا جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha