7 اکتوبر 2026 - 16:09
جنوب تعز میں یمنی مسلح افواج کی پیش قدمی؛ سعودی عرب کا حملہ ابتدا ہی میں ناکام

سعودی عرب کی جانب سے یمنی مسلح افواج کے خلاف شروع کیا گیا ’’فجر یمن‘‘ فوجی آپریشن باب المندب کے مشرقی دروازے پر ہی ناکامی سے دوچار ہوگیا، جبکہ یمنی مسلح افواج نے جنوبی تعز سمیت کئی محاذوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پسپائی پر مجبور کردیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سعودی عرب نے ترکی اور پاکستان سمیت کئی ممالک کی شمولیت سے ’’فجر یمن‘‘ آپریشن شروع کیا تھا، تاہم باب المندب کے مشرقی دروازے پر یہ کارروائی ناکامی سے دوچار ہوگئی۔

لبنان کے اخبار الاخبار کے مطابق، یمنی مسلح افواج نے گزشتہ روز جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان فورسز کی پیش قدمی روک دی جو ایک روز قبل باب المندب کے علاقے میں واقع ذوباب کے مضافات میں داخل ہوئی تھیں۔

اس کے باوجود سعودی عرب نے مغربی اور مشرقی یمن کے کئی محاذوں پر اپنی کارروائیاں تیز کردیں اور ریاض نے اس جنگ میں اپنی تمام فوجی صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے مزید پیش قدمی کی کوشش جاری رکھی۔

باب المندب کے محاذ سے سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پسپائی

سعودی حمایت یافتہ فورسز نے یمن کے مغربی ساحل پر باب المندب اور ساحلی شہر المخا کی جانب پیش قدمی کی کوشش روک دی ہے اور الوازعیہ کے علاقے میں نئی لڑائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب یمنی مسلح افواج نے دو روز قبل رات کے وقت ذوباب کے مضافات اور مغربی صوبہ لحج میں رأس العارہ کے علاقے پر بڑے پیمانے پر میزائل حملے کیے، جس کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کو رابطہ لائن سے دور علاقوں میں اپنی پوزیشنیں تبدیل کرنا پڑیں۔

اسی دوران یمنی مسلح افواج کے فوجی میڈیا نے المخا، باب المندب اور میون جزیرے میں اپنے اہلکاروں کی موجودگی کی تصاویر جاری کیں اور رأس العارہ میں سلفی فورسز پر حملے کی تصاویر بھی نشر کیں۔

مقامی ذرائع نے اخبار الاخبار کو بتایا کہ باب المندب اور ذوباب میں اس وقت کوئی جھڑپ جاری نہیں ہے۔ ان ذرائع نے سعودی حمایت یافتہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے ذوباب اور باب المندب کے قریب سعودی حمایت یافتہ فورسز کے داخل ہونے کی اطلاعات کو بھی مسترد کردیا۔

ان ذرائع کے مطابق، پیر کے روز ہونے والی محدود پیش قدمی کا جواب یمنی مسلح افواج نے ایک جانب سے گھیراؤ کرتے ہوئے دیا، جس کے نتیجے میں داخل ہونے والی فورسز کے درجنوں اہلکار ہلاک یا گرفتار ہوگئے۔

مصنوعی فتوحات کا اعتراف

سعودی حمایت یافتہ عدن حکومت سے وابستہ درجنوں کارکنوں نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اعتراف کیا کہ المخا اور باب المندب میں جن فتوحات کے دعوے کیے جا رہے ہیں، وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

ان کارکنوں نے حزب الاصلاح کے حامیوں پر ان دعووں کو پھیلانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس کا مقصد سعودی حمایت یافتہ فورسز کو المخا میں ایک بڑے گھات میں پھنسانا ہے۔

ان کے مطابق ساحلی علاقہ یمنی مسلح افواج کی نظر اور فائرنگ کی زد میں ہے، جبکہ یمنی فورسز باب المندب، المخا اور ذوباب پر نظر رکھنے والی پہاڑیوں میں موجود ہیں۔

الوازعیہ میں حملہ ناکام

الوازعیہ میں بھی یمنی مسلح افواج نے مخالف فورسز کی پیش قدمی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے متعدد بکتر بند گاڑیاں تباہ کردیں۔ اس دوران سعودی جنگی طیارے حملہ آور فورسز کو فضائی مدد فراہم کر رہے تھے۔

یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے گزشتہ رات ایک بیان میں کہا کہ سعودی فورسز نے الوازعیہ کے جنوب مغربی حصے میں یمنی فورسز کے ٹھکانوں کی جانب داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم انہیں علاقے سے پسپا کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز کو متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی گاڑیاں اور بکتر بند گاڑیاں تباہ جبکہ درجنوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔

یحییٰ سریع نے مزید کہا کہ ایک خصوصی میزائل کارروائی کے ذریعے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے اس اجتماع کو منتشر کردیا گیا جو باب المندب کی جانب پیش قدمی کی تیاری کر رہا تھا۔

جنوبی تعز میں صنعاء کی پیش قدمی

صوبہ تعز کے جنوبی محاذ پر یمنی مسلح افواج گزشتہ روز الصلو کے علاقے میں داخل ہوگئیں اور جھڑپیں قدس اور الاحکوم کے دیگر علاقوں تک پھیل گئیں۔

یمنی مسلح افواج نے صوبہ لحج کی حدود میں واقع المقاطرہ کے متعدد دیہات اور پہاڑی علاقوں میں بھی نمایاں پیش قدمی کی۔

شہر تعز کے شمالی محاذ پر بھی یمنی مسلح افواج نے المسراخ کے علاقے میں کارروائی کی اور تزویراتی اہمیت کے حامل راہش پہاڑ سمیت شہر پر نظر رکھنے والے کئی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔

الصلو جنوبی تعز کے دیہی علاقوں میں چھٹا علاقہ ہے جس پر یمنی مسلح افواج نے المعافر، المواسط، جبل حبشی، الشمایتین اور سامع کے بعد کنٹرول حاصل کیا ہے۔

مبصرین کے مطابق جنوبی تعز کی اہم پہاڑیوں پر کنٹرول سعودی عرب کے لیے باب المندب کی جانب دوبارہ واپسی کی کوشش کو مزید مشکل بنا سکتا ہے، کیونکہ یہ پہاڑ یمن کے مغربی ساحل پر نظر رکھتے ہیں اور باب المندب کے کنٹرول کے حوالے سے دفاعی اہمیت رکھتے ہیں۔

سعودی ٹھکانوں پر حملوں کا دائرہ وسیع

یحییٰ سریع نے یہ بھی اعلان کیا کہ یمنی مسلح افواج نے گزشتہ روز علی الصبح صوبہ الجوف کے مشرقی علاقوں، مغربی مأرب اور جیزان میں الزغارید کیمپ سمیت کئی محاذوں پر سعودی فورسز کے اجتماع کے مقامات کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں متعدد معاون اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ ان کی کئی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔

یہ حملے یمنی مسلح افواج کی جانب سے سعودی عرب کی سرزمین کے اندر کئی اہم مراکز اور تنصیبات کے خلاف مربوط کارروائیوں کے اعلان کے ساتھ ہی کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا۔

اعلان کردہ اہداف میں سعودی دارالحکومت ریاض کا کنگ خالد ایئرپورٹ بھی شامل تھا، جس کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی فضائی آمدورفت کا 33 فیصد اسی ہوائی اڈے سے ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے جنوب میں رابغ آئل کمپلیکس، خمیس مشیط فوجی اڈہ اور ابہا ایئرپورٹ بھی اعلان کردہ اہداف میں شامل تھے۔

سعودی فضائی حملوں میں شدت

دوسری جانب، سعودی حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے یمنی مسلح افواج کی پیش قدمی روکنے میں ناکامی کے بعد سعودی جنگی طیاروں نے ان علاقوں پر فضائی حملے تیز کردیے ہیں جن پر گزشتہ چند روز کے دوران یمنی مسلح افواج نے کنٹرول حاصل کیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں التربہ شہر کے بعض شہری اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ شمالی یمن کے صوبہ صعدہ کے متعدد علاقوں پر بھی بمباری کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha