اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، وینس نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا تو اسے اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت کے حوالے سے ایک بامعنی قدم اٹھانا ہوگا۔
وینس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ جنگ کے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کے باوجود، اپنے مؤقف کے دفاع کے لیے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے معاملے پر مسلسل زور دے رہے ہیں۔ ایرانی حکام اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
امریکی نائب صدر نے ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی دہرایا کہ واشنگٹن کے لیے یہ بات مکمل طور پر واضح نہیں کہ ایران میں فیصلے کس طرح کیے جاتے ہیں۔
ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ ایران کی جانب سے مذاکرات اور رابطوں کے لیے متعلقہ حکام کون ہیں اور ایران کا نظامِ فیصلہ سازی کس طرح کام کرتا ہے۔

بقائی نے کہا تھا کہ اصل مسئلہ اس کے برعکس ہے اور مشکل امریکی حکام کے متضاد مؤقف اور متعدد پیغامات ہیں۔
دوسری جانب جے ڈی وینس نے الاسکا میں ایک انتخابی مہم سے خطاب کے بعد رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے ابھی 2028 کے امریکی صدارتی انتخابات میں امیدوار بننے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
آپ کا تبصرہ