6 اکتوبر 2026 - 16:16
7 اکتوبر کی کارروائی سے مقاومتی محاذ آگاہ نہیں تھا، ایرانی سفیر نے اہم تفصیلات بتا دیں

لبنان میں ایران کے سابق سفیر مجتبیٰ امانی نے کہا ہے کہ طوفان الاقصیٰ کی کارروائی کی تفصیلات سے مقاومتی محاذآگاہ نہیں تھا اور حماس نے اس کارروائی کی کامیابی کے لیے مکمل رازداری برقرار رکھی تھی۔ انہوں نے 7 اکتوبر کی صبح شہید سید حسن نصراللہ سے ہونے والی اپنی گفتگو، پیجر دھماکوں اور جنگ کے ابتدائی دنوں میں سامنے آنے والے مختلف امکانات کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان میں ایران کے سابق سفیر مجتبیٰ امانی نے طوفان الاقصیٰ کی تیسری برسی کی مرکزی تقریب کی تیاریوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ مقاومت کو اس کی اطلاع کیوں نہیں تھی اور حزب اللہ فوری طور پر مکمل جنگ میں کیوں شامل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ جبهہ مقاومت کو طوفان الاقصیٰ کی کارروائی کی تفصیلات کا علم نہیں تھا، کیونکہ حماس کو ایسی بڑی کارروائی کے لیے مکمل رازداری برقرار رکھنا ضروری تھا۔

امانی نے 7 اکتوبر کی صبح شہید سید حسن نصراللہ سے اپنی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صبح کے ابتدائی اوقات میں جب تقریباً 100 اسرائیلیوں کے مارے جانے کی خبریں سامنے آئیں تو انہوں نے شہید نصراللہ سے رابطہ کیا اور ان اعداد و شمار کی تصدیق کے بارے میں پوچھا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم عام طور پر اس وقت سید حسن نصراللہ کو فون کرکے زحمت نہیں دیتے تھے، لیکن اس موقع پر میں نے ان سے رابطہ کیا۔ شہید نصراللہ نے جواب دیا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ان اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت واضح ہوگیا تھا کہ وہ طوفان الاقصیٰ کے بعد کی صورتحال سے آگاہ ہوچکے ہیں۔

امانی نے بتایا کہ کارروائی کے بعد لبنان میں متعدد اجلاس ہوئے۔ شہید حسین امیرعبداللہیان بھی واقعے کے پانچ روز بعد لبنان پہنچے اور اپنے قیام کے دوران شہید سید حسن نصراللہ، مقاومت کے کمانڈروں، سیاسی رہنماؤں اور فلسطینی گروہوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں اور بات چیت کی۔

جنگ کے اگلے مرحلے کے لیے تین امکانات

امانی نے جنگ کے ابتدائی دنوں کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت لڑائی کے مستقبل کے حوالے سے تین امکانات زیر غور تھے۔ پہلا امکان وسیع جنگ کا، دوسرا کسی مخصوص علاقے تک محدود جنگ کا اور تیسرا سیاسی و ابلاغی حکمت عملی کے ذریعے مظلومیت کا تاثر اجاگر کرنا اور صیہونی ریاست کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو جاری رکھنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے امکان کے تحت لڑائی حزب اللہ اور صیہونی ریاست کے درمیان ہونے والی بعض سابقہ جنگوں یا حماس اور اسلامی جہاد کے ساتھ جھڑپوں کی طرح کسی مخصوص علاقے تک محدود رہ سکتی تھی۔

امانی کے مطابق ایک اور امکان، جسے ان کے بقول بنیامین نیتن یاہو پیش نظر رکھتا تھا، 7 اکتوبر کی کارروائی کو سیاسی اور ابلاغی سطح پر استعمال کرنا، مظلومیت کا دعویٰ کرنا اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل جاری رکھنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں صیہونی ریاست نے 2006 کی جنگ کے بعد اپنی حکمت عملی بتدریج تبدیل کی اور مقاومت کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے محور مقاومت کو ختم کرنے کی کوشش شروع کردی۔

پیجر دھماکوں کا معاملہ

لبنان میں ایران کے سابق سفیر نے پیجر دھماکوں کے بارے میں بتایا کہ دستیاب معلومات کے مطابق حزب اللہ کے خلاف ایک کارروائی کے لیے تقریباً 15 ہزار پیجر تیار کیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان آلات کو وقت سے پہلے استعمال کرنے کے باعث ایک بڑی کارروائی کے لیے ان سے فائدہ اٹھانے کی مطلوبہ صلاحیت ختم ہوگئی۔

امانی نے کہا کہ پیجر دھماکوں کے وقت بھی ان کا خیال تھا کہ یہ کارروائی مناسب وقت پر نہیں کی گئی۔ اگر ان آلات کو فوجی کارروائی اور زمینی فوج کی پیش قدمی کے ساتھ بیک وقت استعمال کیا جاتا تو اس کے نتائج مختلف ہوسکتے تھے۔

انہوں نے صیہونی ریاست کے اندر پیجرز کے استعمال کے وقت پر ہونے والی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو اس کارروائی کے وقت کے حوالے سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

شہید سید حسن نصراللہ کی حکمت عملی نے جنگ کو پھیلنے سے روکا

امانی نے جنگ کے دوران حزب اللہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں شہید سید حسن نصراللہ کی حکمت عملی کے باعث جنگ ایک وسیع تصادم میں تبدیل نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ وسیع جنگ نیتن یاہو کے پیش نظر موجود امکانات میں شامل تھی اور اس کا مقصد امریکا کو جنگ میں شامل کرنا تھا۔ شہید سید حسن نصراللہ نے حزب اللہ کی فوجی کارروائیوں میں تحمل کی ایک ایسی حد برقرار رکھی جس کے باعث امریکا براہ راست جنگ میں شامل ہونے سے بچا رہا۔

امانی نے بائیڈن اور ٹرمپ حکومتوں کے جنگ کے حوالے سے مختلف رویوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بائیڈن کے دور میں جنگ جاری رکھنے کے طریقہ کار کے حوالے سے کچھ ملاحظات موجود تھے، جبکہ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد نیتن یاہو کے لیے صورتحال تبدیل ہوگئی۔

طوفان الاقصیٰ نے عرب ممالک سے تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو متاثر کیا

ایرانی سفیر نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ کی کارروائی نے ایک طرف صیہونی ریاست کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو متاثر کیا اور دوسری طرف صیہونی ریاست کے لیے اپنی فوجی حکمت عملی کو مکمل طور پر نافذ کرنا مشکل بنا دیا۔

امانی نے دشمن کے بارے میں درست معلومات، فیصلہ کن ضرب لگانا اور جنگ کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کو برقرار رکھنا اور مستحکم کرنا صیہونی ریاست کی فوجی حکمت عملی کے اہم اصول قرار دیے۔

انہوں نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں ان اصولوں کے مطابق اپنی فوجی حکمت عملی پر عمل کرنا صیہونی ریاست کے لیے مشکلات کا باعث بنا۔

امانی نے 1967 کی جنگ اور صیہونی ریاست کی عرب ممالک کے ساتھ ہونے والی لڑائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صیہونی ریاست نے مختلف ادوار میں فوجی کارروائیوں کے بعد اپنے قبضے میں آنے والے علاقوں کو برقرار رکھنے اور مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔

جنگ کا نتیجہ اللہ تعالیٰ طے کرتا ہے

امانی نے گزشتہ تین برسوں کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مقاومت کے متعدد رہنماؤں اور کمانڈروں، جن میں شہید سید حسن نصراللہ اور شہید اسماعیل ہنیہ بھی شامل ہیں، کو کھونا پڑا، تاہم جنگ کے بعد خطہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کی نئی تشکیل کے ایک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

انہوں نے غزہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں منیر شفیق سے ہونے والی اپنی گفتگو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جب انہوں نے شہداء اور زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا تو شفیق نے جواب دیا کہ یہ جانی نقصان فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کی قیمت کا حصہ ہے۔

امانی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا: ’’ہمیشہ لوگ نیک نیتی اور مومنانہ جذبے کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں اور نتیجہ اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ محور مقاومت اب بھی صیہونی ریاست کے خلاف مقابلے کے راستے پر قائم ہے اور گزشتہ تین برسوں کے واقعات نے صیہونی ریاست کے مستقبل اور امریکا کی جانب سے اس کی حمایت کی صلاحیت کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha