اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی فوج کے ریٹائرڈ جنرل اسحاق بریک نے اخبار معاریو میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں خبردار کیا ہے کہ صیہونی ریاست کو اندرونی اور بیرونی بحرانوں کے ایک ایسے مجموعے کا سامنا ہے جو اس کے مستقبل کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور آنے والے برسوں میں اس کے قائم رہنے کی صلاحیت پر سوال اٹھا رہا ہے۔
بریک نے کہا کہ موجودہ بحران اب ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ مثال کے طور پر اقتصادی صلاحیت میں کمی تعلیم، طب، سائنس و ٹیکنالوجی، جامعات، بنیادی ڈھانچے، پیداوار اور تحقیق کے شعبوں کو متاثر کرتی ہے اور بالآخر فوج کی کمزوری اور ماہر افراد کے صیہونی ریاست سے ہجرت کرنے کا سبب بنتی ہے۔
انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ مستقبل کی صورت حال کیا ہوگی، کہا: جب مجھ سے مستقبل کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو میں ایک سوال کے ذریعے جواب دیتا ہوں کہ کیا ہم چند سال بعد بھی یہاں موجود ہوں گے؟ اسرائیل کا قائم رہنا ایک دوسرے سے جڑے متعدد مسائل سے بیک وقت نمٹنے کا تقاضا کرتا ہے اور ان میں سے بعض مسائل واپسی کی حد کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
بریک نے ان مسائل میں سب سے پہلے انکار کی کیفیت سے نکلنے اور حقیقت کو تسلیم کرنے کو قرار دیا۔
ان کے مطابق، مقبوضہ علاقوں کا معاشرہ سیاسی، مذہبی اور سماجی اختلافات کی بنیاد پر پہلے سے زیادہ تقسیم ہو چکا ہے۔ دائیں اور بائیں بازو، مذہبی اور سیکولر طبقوں، عربوں اور یہودیوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض معاملات میں گروہی مفادات نے عوامی مفادات پر برتری حاصل کر لی ہے، جبکہ موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے معاشرے میں اتحاد اور مختلف گروہوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
بیرونی تعلقات میں کمی پر انتباہ
ریٹائرڈ جنرل نے بین الاقوامی تعلقات کو بھی کسی خطے میں بقا کے بنیادی عوامل میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تعلقات کا تجارت، معیشت، درآمدات و برآمدات، جامعاتی، سائنسی اور تکنیکی تعاون، سلامتی کے تعاون، اسلحے کی خریداری، اتحادوں اور امن معاہدوں سے براہِ راست تعلق ہے۔
بریک نے اعتراف کیا کہ حالیہ برسوں میں جنگوں کے جاری رہنے کے ساتھ صیہونی ریاست کے امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کمزور ہوئے ہیں اور بعض یورپی ممالک نے صیہونی بستیوں کے خلاف پابندیاں اور دیگر اقدامات بھی کیے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سلسلے کا جاری رہنا صیہونی ریاست کے لیے اقتصادی، سیاسی اور سلامتی کے حوالے سے نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
بریک نے معیشت کو ’’سلامتی کی ریڑھ کی ہڈی‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معیشت کی کمزوری سے کابینہ کی سرگرمیوں میں کمی، عوامی اعتماد میں کمی، جنگ کے بعد فوج کی بحالی کی صلاحیت محدود ہونے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی رفتار سست ہونے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے صیہونی ریاست کی سیاسی قیادت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور اہم عہدوں پر ماہر اور تجربہ کار افراد کی تقرری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ قلیل مدتی سیاسی مفادات کو ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔
اس ریٹائرڈ جنرل نے مقبوضہ علاقوں میں تعلیم کے بحران کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ بجٹ میں نمایاں اضافے کے باوجود تعلیمی نتائج میں کمی آئی ہے اور تعلیمی نظام میں جمع ہونے والے مسائل سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
آپ کا تبصرہ