اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، علی اکبر ولایتی نے متحدہ عرب امارات کے حکام کی جانب سے ایران کے تین جزائر کے بارے میں کیے جانے والے بے بنیاد دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک کی سیاسی عمر نصف صدی تک بھی نہیں پہنچتی، وہ ایران کے تاریخی جزائر کے بارے میں دعویٰ کر رہا ہے۔
ولایتی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا:
1۔ پڑوسی رہتا ہے، مہمان چلا جاتا ہے
جس ملک کی سیاسی عمر نصف صدی تک بھی نہیں پہنچی، وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ایسے جزائر کے بارے میں دعویٰ کر رہا ہے جو گزشتہ صدیوں کے تاریخی دستاویزات اور نقشوں میں ایران کے نام سے درج ہیں۔
جغرافیہ کسی بیان سے تبدیل نہیں ہوتا۔ تنب بزرگ، تنب کوچک اور ابوموسیٰ ایرانی تھے اور ایرانی ہی رہیں گے۔
2۔ نیتن یاہو کی گرمجوشی سے میزبانی کے ایک ہفتے بعد عربوں کے حقوق کی بات
نیتن یاہو کی گرمجوشی سے میزبانی کے صرف ایک ہفتے بعد ’’عربوں کے حقوق‘‘ اور ’’اسلامی یکجہتی‘‘ کی بات کرنا محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ کھلا تضاد ہے۔ قاہرہ سے بیروت تک عوامی رائے اس دوہرے معیار کا فیصلہ کرے گی۔
خطے کے تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ باہر سے لائی گئی سلامتی کی مدت زیادہ طویل نہیں ہوتی۔
آپ کا تبصرہ