اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جرمن اخبار تاگس شاو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اٹلی کی دائیں بازو کی وزیراعظم جارجیا میلونی کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ فرمان پر صدر نے دستخط کیے۔ اس کے تحت طالبات کے لیے تعلیمی اداروں میں چہرہ ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اٹالوی صدارتی دفتر نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ تعلیمی سال 2027-28 سے ان تمام تعلیمی سطحوں کی پہلی جماعتوں میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد 30 فیصد تک محدود ہوگی، جنہیں اٹالوی زبان پر مضبوط دسترس حاصل نہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ پابندی بنیادی طور پر نئے تارکین وطن کے بچوں کو متاثر کرے گی۔ 30 فیصد کی حد ان بچوں پر لاگو ہوگی جو اٹالوی شہری نہیں، اٹلی میں پیدا نہیں ہوئے اور کم از کم دو سال اٹالوی کنڈرگارٹن میں تعلیم حاصل نہیں کرچکے۔
یہ فرمان ہنگامی اقدام کے طور پر جاری کیا گیا ہے تاکہ اسے فوری طور پر نافذ کیا جاسکے۔ اطالوی پارلیمان کے پاس اسے باقاعدہ قانون میں تبدیل کرنے کے لیے 60 دن ہوں گے، بصورت دیگر فرمان غیر مؤثر ہوجائے گا۔
نئے ضوابط کے تحت صرف بچوں ہی نہیں بلکہ زبان کے حوالے سے مشکلات رکھنے والے والدین کو بھی متاثر کن اقدامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اگر زبان کی دشواری کے باعث اسکول سے رابطے میں رکاوٹ پیدا ہو تو ایسے والدین کو اطالوی زبان کے کورسز میں شرکت کرنا ہوگی۔
جارجیا میلونی تقریباً چار سال سے وزیراعظم کے منصب پر فائز ہیں اور جنگِ عظیم دوم کے بعد اٹلی کی کسی بھی دوسری حکومت کے مقابلے میں ان کا دورِ اقتدار طویل رہا ہے۔ وہ تارکین وطن کے معاملے پر سخت پالیسی کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق، اٹلی میں اگلے سال انتخابات ہونے والے ہیں۔ میلونی کی جماعت برادرانِ اٹلی اس وقت رائے عامہ کے جائزوں میں دیگر جماعتوں سے آگے بتائی جارہی ہے، تاہم ان کے دائیں بازو کے اتحاد کو سابق جنرل روبرٹو واناچی کی قیادت میں نئی جماعت ’’فوتورو ناتسیونالے یعنی قومی مستقبل کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے، جو میلونی کی جماعت سے بھی زیادہ دائیں بازو کی جانب مائل ہے۔
آپ کا تبصرہ