1 اکتوبر 2026 - 16:25
صیہونی حکومت کے مرکزی بینک کی وارننگ: نیتن یاہو کے بعد آنے والی حکومت کو جنگ کا بھاری بوجھ ورثے میں ملے گا

صیہونی حکومت کے مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ آنے والی حکومت کو ایسی معیشت ملے گی جو جنگ کے بھاری اخراجات، بڑھتے ہوئے سرکاری قرضے اور فوجی اخراجات میں اضافے کے دباؤ میں ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی حکومت کے مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ 2023 سے 2026 تک اس حکومت پر جنگ کے مالی اخراجات کا تخمینہ تقریباً 350 ارب شیکل (114 ارب ڈالر) لگایا گیا ہے، جس میں سے تقریباً نصف رقم قرض لے کر پوری کی گئی ہے۔

اخبار «جروزلم پوسٹ» کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی بینک نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں سرکاری قرضوں کی شرح 2023 کے آغاز میں 60.5 فیصد سے بڑھ کر 2025 کے اختتام پر 68.5 فیصد ہو گئی، جبکہ گزشتہ سال بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا 4.7 فیصد رہا۔

اسرائیل کے مرکزی بینک نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز سے 2025 کے اختتام تک اس حکومت کی معیشت کی متوقع پیداوار میں تقریباً 177 ارب شیکل (58 ارب ڈالر) کی کمی ہوئی ہے۔ یہ نقصان فوجی کشمکش کے سنگین معاشی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔

اسرائیل کے مرکزی بینک نے اپنی رپورٹ میں زور دیا کہ سکیورٹی اور فوجی اخراجات میں اضافے کے ساتھ جنگ کے غیر فوجی اخراجات نے بھی بجٹ پر اضافی دباؤ ڈالا ہے اور آنے والی حکومت کو سکیورٹی ضروریات، سماجی اخراجات اور قرض کم کرنے کے منصوبے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں ہے جب غزہ جنگ کے آغاز (15 میزان 1402) سے صیہونی حکومت کے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اندازے کے مطابق مجموعی قومی پیداوار میں فوجی اخراجات کا حصہ جنگ سے پہلے تقریباً 4.5 فیصد تھا، جو 2025 میں بڑھ کر تقریباً 8 فیصد ہو گیا اور 2026 میں بھی تقریباً 6 فیصد کی سطح پر رہ سکتا ہے۔

اسرائیل کے مرکزی بینک نے 2026 کے اپنے ابتدائی اندازوں میں بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 4.9 فیصد اور سرکاری قرضوں کی شرح تقریباً 69 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔ تاہم، ایران کے خلاف جنگ سے متعلق اخراجات میں اضافے کے بعد بینک کے نئے اندازوں میں 2026 کے لیے سرکاری قرضوں کی شرح 70 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا 5.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

مرکزی بینک کی جانب سے معاشی خطرات سے خبردار کیے جانے کے ساتھ ساتھ صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے بھی فوجی بجٹ کی فراہمی پر اختلافات کی خبر دی ہے۔

ان ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق 2026 کے لیے فوج کے ابتدائی بجٹ کا حجم تقریباً 143 ارب شیکل (47 ارب ڈالر) مقرر کیا گیا تھا، تاہم جنگ میں شدت آنے کے بعد یہ رقم بڑھا کر تقریباً 183 ارب شیکل (تقریباً 60 ارب ڈالر) کر دی گئی۔

اسی دوران اضافی بجٹ کے ایک حصے کی فراہمی میں تاخیر کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ایک عہدیدار کے دعوے کے مطابق فوج پر دفاعی صنعتوں کے 15 ارب شیکل (تقریباً 5 ارب ڈالر) سے زیادہ واجب الادا ہیں۔

اسی حوالے سے اخبار «کالکالسٹ» کے معاشی مبصر ایڈرین فیلوت نے کہا کہ اسرائیل کی آنے والی حکومت کو محدود مالی وسائل کا سامنا ہوگا، کیونکہ جمع شدہ قرضوں کے ساتھ فوجی اخراجات پورے کرنے کی ضرورت بھی برقرار رہے گی۔

ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ، ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنا، بعض سرکاری اخراجات میں کمی اور مزید قرض لینا، مالی وسائل فراہم کرنے کے لیے زیر غور آپشنز میں شامل ہیں، تاہم ٹیکسوں میں اضافہ کھپت اور معاشی ترقی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

دوسری جانب اخبار «ہارٹز» نے حال ہی میں ایک تجزیے میں رپورٹ کیا ہے کہ صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے اور انتخابات میں کامیابی کے لیے خطے میں جنگ اور کشیدگی جاری رکھنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس پالیسی کے نتیجے میں غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور شام میں جنگ کے معاملات بدستور جاری ہیں اور ان محاذوں پر تنازعات کے خاتمے کے واضح امکانات نظر نہیں آتے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha