1 اکتوبر 2026 - 16:23
معروف برطانوی کامیڈین کے اسلام مخالف بیانات پر تنازع

معروف برطانوی کامیڈین جان کلیز کو اسلام مخالف بیانات کے ایک سلسلے کے بعد برطانوی حکومت کے انسدادِ انتہاپسندی کے نظام ’’پریونٹ‘‘ کے حوالے کر دیا گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایک برطانوی شہری نے برطانوی حکومت کے ’’پریونٹ‘‘ نامی انسدادِ انتہاپسندی کے نظام میں رپورٹ درج کراتے ہوئے ملک کے معروف کامیڈین اور اداکار جان کلیز پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مسلسل اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ایسے مواد شائع اور دوبارہ نشر کر رہے ہیں جو ان کے بقول اسلام پر تنقید سے آگے بڑھ کر تمام مسلمانوں کو تشدد پسند اور مجرم کے طور پر پیش کرتا ہے۔

22 ستمبر کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں کلیز کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی جانے والی تحریروں اور دوبارہ شائع کیے گئے مواد کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے بعض مواد میں اسلام اور مسلمانوں کو مجموعی طور پر تشدد، جرائم اور اخلاقی گراوٹ سے جوڑا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طرح کا مواد معاشرے میں کشیدگی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

اس کامیڈین نے اپنے بعض پیغامات میں، جن میں انتہاپسندانہ خیالات پائے جاتے ہیں، اسلام کو تشدد پسند اور غیر منطقی مذہب قرار دیا ہے۔

برطانیہ کی سابق وزیر داخلہ سویلا بریورمین نے جان کلیز کی حمایت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’’پریونٹ‘‘ نظام کو ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کی نشاندہی اور انتہاپسندی کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسلام پر تنقید اور اس کے بارے میں بحث کو محدود کرنے کے لیے۔ آزادیِ اظہار کی تنظیم نے بھی کلیز کی حمایت کرتے ہوئے اس معاملے کو مذاہب پر تنقید اور ان کا مذاق اڑانے کے حق کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha