بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ڈیزل کے عالمی بحران اور اس کی قیمتوں میں بے مثال اضافے کے بعد، ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے جرمنی اور فرانس کو انتباہی پیغامات بھیج کر ان دو ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر کھول دیں، ورنہ واشنگٹن [یورپ کے لئے] اپنی ڈیزل برآمدات مکمل طور پر بند کر سکتا ہے۔
موصولہ رپورٹس کے مطابق، تین ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن نے پیرس اور برلن سے کہا ہے کہ وہ عالمی ایندھن کی قیمتیں کم کرنے میں مدد دینے کے لئے اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر کے دروازے کھول دیں، ورنہ انہیں امریکہ کی طرف سے ڈیزل برآمدات پر پابندی کا خطرہ لاحق ہوگا۔ ایک یورپی ذریعے نے بھی بتایا کہ امریکہ نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ اگلے چھ مہیوں میں 12 کروڑ بیرل ڈیزل مارکیٹ میں لائے۔
امریکی آٹو ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی فی گیلن خوردہ اوسط قیمت ریکارڈ 6.52 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو جنگ سے پہلے کی سطح سے تقریباً 73 فیصد زیادہ ہے۔ یورپ میں بھی قیمتوں نے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور جرمنی میں یہ 2.47 یورو فی لیٹر اور فرانس میں 2.41 یورو فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق، یورپی یونین کے ایندھن اسٹیشنوں پر ڈیزل کی اوسط قیمت آج جمعرات کو نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی اور 2.24 یورو فی لیٹر سے تجاوز کر گئی۔
اس بحران کی اصل جڑ کو توانائی کی منتقلی کے راستوں میں وسیع رکاوٹ میں تلاش کرنا چاہئے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور آئل ٹینکرز کی آمدورفت میں شدید کمی نے خلیج فارس کے کنارے واقع ممالک کی ڈیزل برآمدات کو شدید کم کر دیا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اعلان کیا کہ خلیج فارس کے کنارے واقع ممالک کی خالص ڈیزل برآمدات اگست میں تقریباً 3 لاکھ 9000 بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہیں، جو جنگ سے پہلے کی سطح کا صرف ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ایک سابق اہلکار نے اعلان کیا کہ خلیج فارس کے علاقے کی ریفائننگ کی تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ صلاحیت بند کر دی گئی ہے۔
رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے ایک دن میں آبنائے ہرمز سے صرف تین تجارتی جہاز گذرے؛ یہ تعداد 16 جہازوں کی 10 روزہ اوسط کے مقابلے میں نمایاں کمی ظاہر کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ