اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی حکومت کی ایک نئی دستاویز میں ایسے منظرنامے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جو صیہونی حکومت کی فضائیہ کے صحرائے نقب میں واقع اہم اڈوں کی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتا ہے اور کثیرالجہتی جنگ کے عروج پر اس فضائیہ کی عملی پروازیں انجام دینے کی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔
دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم نے لکھا ہے کہ ’’نواتیم کا علاقہ: حوالہ جاتی منظرنامہ‘‘ کے عنوان سے یہ دستاویز صیہونی حکومت کے سابق سکیورٹی اور فوجی حکام کی شرکت سے تیار کی گئی ہے اور اس میں وہ منظرنامہ پیش کیا گیا ہے جسے اخبار نے ایک خطرناک منظرنامہ قرار دیا ہے۔ ایسا منظرنامہ جو صیہونی حکومت کی فضائی صلاحیت کے ایک حصے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
یہ انتباہ تین ایسے عوامل کے بیک وقت وقوع پذیر ہونے کے امکان پر مبنی ہے، جن میں سے ہر ایک پہلے الگ الگ دیکھا جا چکا ہے:
-
صیہونی حکومت کی جانب سے اس دستاویز میں پیش کیے گئے اندازوں کے مطابق، نقب میں بڑی مقدار میں غیر قانونی ہتھیاروں کا پھیلاؤ؛
-
آبادی کے ایک حصے کی ان بدامنیوں میں شرکت کا امکان، جنہیں دستاویز قوم پرستانہ محرکات کا حامل قرار دیتی ہے؛
-
انٹیلی جنس سرگرمیاں اور عملی کارروائیوں کی رہنمائی، جنہیں صیہونی حکومت ایران سے منسوب کرتی ہے۔
صیہونی حکومت کے اس منظرنامے کے مطابق، اصل خطرہ ان عوامل میں سے کسی ایک میں تنہا نہیں بلکہ علاقائی محاذ آرائی کے دوران ان کے بیک وقت رونما ہونے میں ہے۔ ایسی صورت حال صیہونی حکومت کے فضائی اڈوں تک رسائی کے راستے بند کر سکتی ہے اور ایک حساس لمحے میں ان کی عملی صلاحیت کے ایک حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔
نواتیم فضائی اڈے کی سرگرمیوں میں خلل
ان خدشات کے مرکز میں نواتیم فضائی اڈہ ہے۔ اس اڈے پر ایف-35 لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن، بھاری نقل و حمل کے طیارے اور صیہونی حکومت کا سرکاری طیارہ، جسے ’’صیہون ونگ‘‘ کہا جاتا ہے، موجود ہیں۔
اس رپورٹ میں نقب کے دیگر اڈوں، جن میں حتسریم فضائی اڈہ اور رامون اور تسئیلیم اڈوں کے اطراف کے علاقے شامل ہیں، کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
اس دستاویز کے مطابق، صیہونی حکومت کی فضائی طاقت کا ایک اہم حصہ اس علاقے میں تعینات ہے۔
زیرِ بحث منظرنامے میں ضروری نہیں کہ صیہونی حکومت کے فضائی اڈے پر قبضہ یا براہِ راست فوجی حملہ کیا جائے۔ دستاویز کے مطابق رسائی کے راستے بند کرنا، زمین پر موجود طیاروں پر فائرنگ کرنا یا ڈرونز کا استعمال، بعض طیاروں کو چند گھنٹوں یا چند دنوں کے لیے پروازوں کے نظام سے باہر کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں اڈے کی عملی صلاحیت کم اور کثیرالجہتی جنگ کے عروج پر پروازیں انجام دینے کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔
اس بنیاد پر دستاویز خطرے کی شدت کا اندازہ اس مدت سے لگاتی ہے جس کے دوران اسرائیل اس اڈے کو استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم رہتا ہے۔
کوئی طیارہ معمولی نقصان پہنچنے کے بعد بھی دوبارہ سروس میں آنے سے پہلے معائنے اور مرمت کا محتاج ہو سکتا ہے۔ جبکہ رسائی کے راستوں کی بندش پائلٹوں اور فنی عملے کو اڈے تک پہنچنے سے بھی روک سکتی ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جنگی حالات میں طیاروں کے اڑان بھرنے کی صلاحیت میں صرف ایک گھنٹے کی رکاوٹ بھی مادی نقصان کی مقدار سے کہیں زیادہ سنگین اثر ڈال سکتی ہے۔
دستاویز میں پیش کیے گئے سابقہ واقعات
عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم نے زور دیا ہے کہ اس دستاویز کے تیار کنندگان اپنے منظرنامے کے عناصر کو محض مکمل طور پر نظری مفروضے نہیں سمجھتے۔
مئی 2021 میں غزہ جنگ اور مقبوضہ علاقوں کے اندر احتجاج اور بدامنی کے ساتھ ہی نقب کے بعض اہم راستے بند ہوگئے تھے۔ اس وقت ریزرو پائلٹوں کو نواتیم فضائی اڈے تک پہنچنے کے لیے سکیورٹی تحفظ میں سفر کرنا پڑا تھا اور اس اڈے کے قریب واقع نواتیم بستی بھی تقریباً 24 گھنٹے تک عملاً الگ تھلگ رہی تھی۔
رپورٹ تیار کرنے والے یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ان واقعات کی ایران نے رہنمائی کی تھی۔ بلکہ وہ ان واقعات کو اس بات کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ایک حساس فوجی تنصیب تک جانے والے راستوں میں خلل پہلے بھی پیدا ہو چکا ہے۔
اسی طرح صیہونی حکومت کے سرکاری نگران کی جانب سے اپریل 2026 میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں ایسی فائرنگ کے بعض واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے جو نواتیم فضائی اڈے کے اندر تک پہنچی اور ایک واقعے میں ایک طیارے کے پر کو نقصان پہنچا۔ اس رپورٹ میں ڈرونز کی دراندازی کے واقعات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
اسی دوران اسرائیلی پولیس نقب کے علاقے میں غیر قانونی ہتھیاروں اور جنگی سازوسامان کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار بتاتی ہے، جبکہ رفمن انسٹی ٹیوٹ نے اس تعداد کا تخمینہ تقریباً ایک لاکھ لگایا ہے۔
نواتیم فضائی اڈے پر ایران کی انٹیلی جنس نظر
اس دستاویز کے مطابق، ایران کے اس معاملے میں شامل ہونے سے خدشات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
نواتیم فضائی اڈہ اس سے قبل 2024 میں ایران کے میزائل حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ صیہونی حکومت کے حکام نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایسے نیٹ ورکس کا سراغ لگایا ہے جو ان کے بقول جاسوسی کے لیے سرگرم تھے اور ان نیٹ ورکس کے بعض افراد کو اڈوں اور فوجی تنصیبات کی تصاویر بنانے کا کام سونپا گیا تھا۔
2025 میں بھی صیہونی حکومت کے حکام نے نقب کی بدوی برادری سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ٹیچر پر، جو نواتیم فضائی اڈے کے قریب رہتی تھی، ایرانی انٹیلی جنس ادارے کے لیے کام کرنے اور اس اڈے کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا الزام عائد کیا۔
صیہونی حکومت کی عدالت میں پیش کی گئی فردِ جرم کے مطابق، اس خاتون نے جنگی طیاروں کے اڑان بھرنے کی ویڈیو بھی بنائی تھی۔
اس دستاویز میں صیہونی حکومت کی ان رپورٹس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن میں اردن کی سرحد کے ذریعے ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور مقامی اسمگلروں کے استعمال کی ایرانی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
تاہم، دستاویز یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ نقب میں موجود تمام غیر قانونی ہتھیاروں کے ذخیرے کے پیچھے ایران ہے۔ بلکہ یہ اس پہلے سے موجود ڈھانچے کو وسیع تر محاذ آرائی کی صورت میں استعمال کیے جانے کے امکان کے حوالے سے خبردار کرتی ہے۔
اس دستاویز میں موجود ایک تعبیر کے مطابق، ایران کو نقب کے اندر فوج کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے اڈوں پر نظر رکھنے والی آنکھوں، علاقے میں دستیاب ہتھیاروں اور آبادی کے ایک ایسے حصے کی ضرورت ہے جو کارروائی کے لیے تیار ہو۔
متعدد خطرات کے بیک وقت رونما ہونے پر مبنی منظرنامہ
لہٰذا دستاویز میں زیرِ بحث خطرہ ان عوامل میں سے کسی ایک میں تنہا نہیں بلکہ ایک مخصوص وقت پر ان کے بیک وقت رونما ہونے میں ہے۔
یہ دستاویز ایران یا اس کے اتحادیوں کے ساتھ ایسی جنگ کا تصور پیش کرتی ہے جو مواصلاتی راستوں پر بدامنی کے ساتھ بیک وقت رونما ہو اور پولیس فورس بھی ان بدامنیوں سے نمٹنے میں مصروف ہو۔
ایسی صورت حال میں، دستاویز میں پیش کیے گئے منظرنامے کے مطابق، ایک مسلح گروہ موجودہ صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زمین پر موجود طیاروں پر فائرنگ یا اڈے کے اطراف ڈرونز کے استعمال کے ذریعے کارروائی کر سکتا ہے اور اس کے بعد ایران اس انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی حملہ کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس منظرنامے میں نیا عنصر خود یہ ذرائع نہیں بلکہ بند سڑکوں، کم صلاحیت کے ساتھ کام کرنے والے اڈے، زمین پر موجود متاثرہ طیاروں اور اڈے کے علاقے کے اندر سے پیدا ہونے والے خطرے کا ایک بیرونی حملے کے ساتھ بیک وقت امتزاج اور اس کا وقت ہے۔
ایسی صورت حال میں عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم کے مطابق، فضائی طاقت کی عارضی معطلی کے اثرات نقب کے علاقے سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں اور غزہ، لبنان اور ایران کے محاذوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
دستاویز کا بدوی معاشرے تک خطرے کو عام نہ کرنے پر زور
تاہم، دستاویز زور دیتی ہے کہ یہ منظرنامہ نقب کے پورے بدوی معاشرے کو ذمہ دار یا خطرہ قرار نہیں دیتا بلکہ خطرے کو اس اقلیت تک محدود کرتا ہے جسے یہ مسلح اقلیت قرار دیتی ہے۔ یہ اقلیت ایسے علاقے میں سرگرم ہے جہاں، دستاویز کے مطابق، صیہونی حکومت کی حاکمیت کمزور ہے۔
دستاویز کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ نواتیم فضائی اڈے کے اطراف کا علاقہ اب محض ایک فوجی اڈے کے گرد غیر فوجی علاقہ نہیں رہا بلکہ اس کی تعبیر کے مطابق صیہونی حکومت کی فضائیہ کا اندرونی محاذ بن چکا ہے۔ ایسا محاذ جہاں فضائی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی فضائی طاقت میں خلل سڑکوں اور اڈے کے اطراف موجود باڑ سے شروع ہو سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ