اہل ب یت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،قاہرہ نے فلسطین کے معاملے پر عالمی نظام کی ناکامی کو ایک بار پھر اجاگر کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی مخالفت کردی۔
مصطفیٰ مدبولی نے کہا کہ عالمی نظام کو ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن کے باعث اس پر اعتماد بحال کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ دنیا کو مؤثر کثیرالجہتی نظام کی ضرورت ہے، جہاں ہر ملک کی آواز سنی جائے اور ایسا عالمی نظام تشکیل دیا جائے جو اپنے وعدوں پر عمل کرے اور ریاستوں کی خودمختاری میں برابری یقینی بنائے۔
مصری وزیراعظم نے غزہ میں جنگ بندی کو شرم الشیخ منصوبے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی بنیاد پر مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ فلسطین کا مسئلہ عالمی نظام میں موجود خرابی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی مصر کی سخت مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ کا مؤقف واضح ہے اور مقصد ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔
مدبولی نے مزید کہا کہ سلامتی ایک ناقابل تقسیم مسئلہ ہے اور کسی ملک کی سلامتی اس کے پڑوسی ممالک کی عدم سلامتی پر قائم نہیں کی جاسکتی۔
مصری وزیراعظم نے پانی کے مسئلے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ مصر کی آبی سلامتی ایک اہم اور ناقابلِ گفت و شنید معاملہ ہے۔ دریائے نیل صرف ایک معاشی وسیلہ نہیں بلکہ مصر کی بقا اور ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق سرحد پار پانی کے وسائل تنازع کے بجائے تعاون اور ہم آہنگی کا ذریعہ بننے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ آبی سلامتی اور ترقی ایک دوسرے سے متصادم اہداف نہیں، بلکہ سیاسی عزم، نیک نیتی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ذریعے دونوں کو بیک وقت حاصل کیا جاسکتا ہے۔
مدبولی نے واضح کیا کہ مصر اپنی آبی سلامتی اور عوام کے اہم وسائل کے تحفظ کے لیے اپنے جائز حق کو محفوظ رکھتا ہے اور کسی فریق کی ترقی یک طرفہ اقدامات یا دوسروں کے مفادات کو نقصان پہنچا کر نہیں ہونی چاہیے۔
مصری وزیراعظم نے خبردار کیا کہ خطے کا کوئی بھی فریق اگر سیاسی اور معاشی مفادات کے حصول کے لیے مسلح گروہوں یا علیحدگی پسند رجحانات کی حمایت کرتا ہے تو وہ مسئلے کا حصہ بن جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے بحرانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ انہیں باہم جڑے ہوئے علاقائی اور سلامتی کے ماحول کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ بحرانوں کو خطے کے عوام کے وسائل پر علاقائی اور بین الاقوامی مسابقت کا میدان بننے سے روکنا ضروری ہے۔
مدبولی نے عالمی نظام اور سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاحات پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ ڈھانچہ تاریخی توازن کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ آج کی حقیقتیں ان توازنوں سے آگے نکل چکی ہیں۔
انہوں نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کو بھی انتہائی ضروری قرار دیا اور کہا کہ دنیا کو ایسے عالمی مالیاتی اداروں کی ضرورت ہے جو زیادہ جواب دہ اور حالات کے مطابق فوری ردعمل دینے والے ہوں۔
مصری وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر حکمرانی کا فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مصر اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے رازداری کے تحفظ، شفافیت اور جواب دہی کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کو ترقی اور غربت کے خاتمے کے ساتھ آگے بڑھانے پر بھی زور دیا۔
آپ کا تبصرہ