اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مغربی یمن کے صوبہ تعز کے جنوبی علاقوں میں یمن کی مسلح افواج اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت اور تعز کے جنوبی دروازے اور حزب اصلاح کے شمالی اہم مراکز میں شمار ہونے والے شہر التربہ کو اپنے قبضے میں رکھنے کے لیے حزب اصلاح کی شدید مزاحمت کے دوران یمن کی مسلح افواج نے صوبہ لحج کے مغربی حصے اور آبنائے باب المندب کے شمال میں واقع کہبوب محاذ پر اہم فوجی پیش قدمی کی ہے۔
میدانی ذرائع نے لبنان کے اخبار الاخبار کو بتایا کہ بریگیڈیئر حمدی شکری کی کمان میں سلفی دھڑے سے وابستہ العمالقہ فورسز پر بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد وہ کہبوب محاذ پر اپنی اگلی چوکیوں سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ العمالقہ فورسز کے درجنوں اہلکاروں کے شہید اور زخمی ہونے کے بعد ان فورسز نے پسپائی اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ ان ذرائع کے مطابق، تعز کے جنوبی محاذوں پر حزب اصلاح سے وابستہ فورسز کے برعکس العمالقہ کو سعودی فضائی مدد بھی حاصل نہیں ہوئی، جبکہ یمن کی مسلح افواج کو کہبوب کے قبائل کی حمایت حاصل تھی۔
ذرائع کے مطابق یہ اہم فوجی پیش قدمی آبنائے باب المندب کے مشرقی دروازے کو فوجی خطرات کے مقابلے میں محفوظ بناتی ہے۔ اس علاقے میں آبنائے باب المندب سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر جھڑپیں جاری رہیں۔
بعض مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ کہبوب کی پہاڑیوں پر کنٹرول حاصل ہونے سے ایک اہم محاذ بند ہو جائے گا، جسے سعودی عرب نے گزشتہ دنوں یمن کی مسلح افواج کو دوسری جانب مصروف رکھنے کے لیے قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔
العمالقہ کی پسپائی کے بعد سعودی فضائی حملے
العمالقہ فورسز کی پسپائی کے بعد سعودی جنگی طیاروں نے کہبوب کی پہاڑیوں، بندرگاہی شہر المخا اور مغربی ساحلی علاقوں پر شدید فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے۔
سعودی عرب اس سے قبل یمن کے صوبوں حضرموت اور المہرہ سے سیکڑوں سلفی اہلکاروں کو المضاربہ، کہبوب اور رأس العارہ کے علاقوں میں محاذوں پر تعینات کر چکا تھا، تاہم یہ فورسز خود کو شدید لڑائی میں گھری ہوئی پائیں، جہاں یمن کی مسلح افواج کو فوجی حکمت عملی اور جنگی تجربے کے اعتبار سے برتری حاصل تھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب حزب اصلاح کے بعض کمانڈروں نے اعتراف کیا کہ لڑائی الشمایتین ضلع کے مرکز تک پہنچ گئی ہے اور شہر التربہ کے قریب پہنچ رہی ہے۔
حزب اصلاح سے وابستہ تعز محاذ کے چیف آف اسٹاف عبدالعزیز المجیدی نے بنی عمر کے علاقوں اور قرَفان پہاڑ کے اطراف میں جھڑپوں میں شدت آنے کی اطلاع دی۔ یہ علاقہ شہر التربہ پر نظر رکھنے والی اہم ترین تزویراتی پوزیشنوں میں شمار ہوتا ہے اور تعز اور لحج و عدن کے درمیان مرکزی فوجی رسد کے راستے پر واقع ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب حزب اصلاح نے الشمایتین ضلع کے مرکز کے قریب واقع تزویراتی علاقے جرداد کے بڑے حصے کا کنٹرول کھو دیا۔
انصار اللہ تعز کے باقی ماندہ علاقوں کے محاصرے کے قریب
الشمایتین محاذ پر حزب اصلاح کی شدید مزاحمت اور تعز صوبے کے جنوبی دروازے کے سقوط کو مؤخر کرنے کی کوششوں کے باوجود، میدانی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کی مسلح افواج صوبہ تعز کے 80 فیصد سے زیادہ رقبے پر کنٹرول رکھتی ہیں، جس کا کل رقبہ 10 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔
اگر شہر التربہ پر کنٹرول حاصل کر لیا جاتا ہے تو یہ شہر الحجرَیہ کے علاقے کا مرکز ہے، جس میں الشمایتین، المواسط اور المعافر سمیت چھ اہم اضلاع شامل ہیں اور جو اب، لحج اور الضالع صوبوں کے ساتھ جغرافیائی سرحد رکھتا ہے۔ یمن کی مسلح افواج صوبہ تعز کے باقی ماندہ علاقوں کے محاصرے کا دائرہ عملاً مکمل کر لے گی۔
یمن کی مسلح افواج اس سے قبل شہر نخست کے اطراف میں بھی پیش قدمی کر چکی ہے اور راسن کے پہاڑی سلسلے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ یہ علاقہ تعز اور عدن کے درمیان اہم ترین فوجی رسد کے راستوں میں سے ایک سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ایک باخبر فوجی ذریعے نے یمن کے اخبار الاخبار کو بتایا کہ یمن کی مسلح افواج رہائشی علاقوں کی موجودگی کے باعث التربہ کی جانب بتدریج پیش قدمی کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یمن کی مسلح افواج الحجرَیہ کے رہائشیوں کے تعاون سے، جس کے تابع التربہ بھی ہے، جنگ کو حتمی انجام تک پہنچانے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
اس ذریعے نے مزید بتایا کہ یمن کی مسلح افواج نے الاصبحی کے علاقے میں واقع العفا فوجی تربیتی مرکز کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔
دوسری جانب سیاسی کارکن منذر الاصبحی نے الشمایتین اور الحجرَیہ کے دیگر رہائشیوں کو یقین دلایا کہ یمن کی مسلح افواج انہیں نشانہ نہیں بنائیں گی اور ان کی بنیادی توجہ ان فورسز پر ہے جنہیں سعودی عرب نے تعز کے دیہی علاقوں میں بھیجا ہے۔
الاصبحی نے اخبار الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعز کی لڑائی کی قیادت یمن کی مسلح افواج میں شامل اسی صوبے کے لوگ کر رہے ہیں اور بنیادی مقصد سعودی دشمن فورسز کو اپنی سرزمین سے باہر نکالنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی سیاسی قیادت نے ان افراد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے جو ان گروہوں کی صفوں میں دھوکے کا شکار ہو کر شامل ہوئے ہیں۔
سعودی حملوں کے جواب میں یمن کی مسلح افواج کا حملہ
سعودی عرب کی جانب سے شہر المخا اور صوبہ الحدیدہ کے جنوبی اضلاع التحیتا اور المنیرہ میں بنیادی ڈھانچے اور شہری مراکز کو نشانہ بنانے والے فضائی حملوں کے جواب میں یمن کی مسلح افواج نے جنوبی سعودی عرب کے جیزان اور نجران میں متعدد اہداف کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی۔
باخبر فوجی ذرائع نے اخبار الاخبار کو بتایا کہ یمن کی میزائل یونٹ اور بغیر پائلٹ طیاروں کی فورسز کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائی مزاحمتی قوت کے توازن اور سعودی طیاروں کی جانب سے یمنی شہریوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کے براہ راست جواب کے طور پر انجام دی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ مزاحمتی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ان سعودی فوجی اڈوں کو غیر مؤثر نہیں کر دیا جاتا جہاں سے جارح سعودی طیارے خمیس مشیط اور طائف سے پرواز کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جیزان اور نجران میں فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے اعلان کیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ روز ایف 15 اور ٹائفون طیاروں کے ذریعے 52 فضائی حملے کیے۔ یہ طیارے خمیس مشیط اور طائف کے دو فوجی اڈوں سے پرواز کر رہے تھے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جیزان سے ایک میزائل حملہ کیا گیا۔
بریگیڈیئر یحییٰ سریع کے مطابق ان حملوں میں الحدیدہ، تعز، البیضاء، مأرب اور صعدہ کے صوبوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے جبکہ یمن کی شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے مزید اعلان کیا کہ سعودی ساختہ ونگ لونگ 2 مسلح جاسوس طیارہ، جسے یمن کے فضائی دفاع نے حال ہی میں مار گرایا تھا، المخا کی فضائی حدود میں جارحانہ کارروائیاں انجام دے رہا تھا اور اسے مناسب ہتھیار استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔
آپ کا تبصرہ