اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر جمال شقرہ نے کہا کہ سید حسن نصراللہ نے اسرائیلی حکومت کے خلاف طویل جدوجہد کے دوران خطے کی مزاحمت کی تاریخ پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی دشمن کسی مجاہد اور مزاحمت کار کو دہشت گرد قرار دیتا ہے تو یہ اس بات کی گواہی ہے کہ وہ مزاحمت اور محاذ آرائی کے موقف پر قائم ہے۔
مصر کے اس استادِ تاریخ نے مزید کہا کہ سید حسن نصراللہ ایک اعلیٰ پائے کے مزاحمت کار تھے اور انہوں نے خطے میں اسرائیلی دشمن کے خلاف جدوجہد کے دوران ایک بڑا اور دیرپا ورثہ چھوڑا۔
ڈاکٹر شقرہ کے مطابق، سید حسن نصراللہ نے طویل عرصے تک اسرائیلی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کیں، جنوبی لبنان کے دفاع میں کردار ادا کیا اور امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے مقابل مزاحمت کی۔
انہوں نے کہا کہ سید حسن نصراللہ کا کردار خطے کی سیاسی اور عسکری تاریخ میں کئی دہائیوں تک نمایاں رہا اور ان کے اثرات مستقبل میں بھی تاریخ و سیاست کے مطالعے کا حصہ رہیں گے۔
ڈاکٹر جمال شقرہ نے آخر میں کہا کہ جو مزاحمت کار اور مجاہد اپنے اپنے عوام کی تاریخ میں اثرات چھوڑ جاتے ہیں، ان کے نام ہمیشہ قوموں کی یادداشت اور تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ