23 ستمبر 2026 - 15:47
عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے بارے میں ابہام، 30 ستمبر کی تاریخ پر سوالات

30 ستمبر کی مقررہ تاریخ قریب آنے کے ساتھ عراق میں امریکی فوج کے انخلا کی حقیقت کے بارے میں سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ بغداد اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق عراق میں بین الاقوامی اتحاد کا مشن ختم اور اس کے فوجیوں کا انخلا 30 ستمبر 2026 تک مکمل ہونا ہے، تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ آیا یہ امریکی فوجی موجودگی کے حقیقی اختتام کی تاریخ ہے یا واشنگٹن عراق میں کسی اور شکل میں اپنی موجودگی جاری رکھے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، 30 ستمبر کی مقررہ تاریخ قریب آنے کے ساتھ عراق میں امریکی فوجیوں کے انخلا کی حقیقت کے بارے میں سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ تاریخ عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے حقیقی اختتام کی علامت ہے یا واشنگٹن عراق میں کسی دوسری شکل میں اپنی موجودگی جاری رکھے گا۔

بغداد اور واشنگٹن کے درمیان اعلان کردہ معاہدے کے مطابق عراق میں بین الاقوامی اتحاد کا مشن ختم ہونا ہے اور اس کے فوجیوں کا انخلا 30 ستمبر 2026 تک مکمل ہونا ہے۔

اسی دوران امریکی فوجیوں نے عملی طور پر کردستان کے علاقے سے اپنے فوجیوں اور فوجی سازوسامان کا انخلا شروع کر دیا ہے۔

اسی سلسلے میں عراقی پارلیمنٹ کی رکن ضحیٰ البہدلی نے المعلومہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق کا فوجی اور سکیورٹی نظام اپنی تمام اقسام اور تشکیل کے ساتھ تیاری اور صلاحیت کے ایک اعلیٰ مرحلے تک پہنچ چکا ہے اور اب وہ مکمل طور پر سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے، سرحدوں کو محفوظ بنانے اور کسی بھی بیرونی یا اندرونی خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے کسی بیرونی چھتری یا سرپرستی کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد سکیورٹی خلا پیدا ہونے کا تاثر دینے کی کوششیں قومی فیصلے کو نظرانداز کرنے کے لیے بے بنیاد بہانے ہیں۔ غیر ملکی فوجی موجودگی کا خاتمہ مکمل خودمختاری کے استحکام کی جانب ایک بنیادی قدم ہے اور عراقی افواج کسی بھی بیرونی دباؤ سے دور ملک کی سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے حقیقی اور تیار دفاعی حصار ہیں۔

عراقی پارلیمنٹ کے رکن مختار الموسوی نے کہا کہ عراق کا ہر قسم کی غیر ملکی موجودگی سے خالی ہونا سکیورٹی کی صورتحال پر مثبت اثر ڈالے گا، کیونکہ تمام تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اس موجودگی کے منفی اثرات اور ایسی مداخلتیں ہیں جو سکیورٹی اور استحکام کے مفاد میں نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں ماہ ستمبر کے اختتام پر امریکی فوجیوں کا انخلا ایک اہم قدم ہے، جو پارلیمنٹ کے فیصلوں اور عوامی حمایت کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان فوجیوں کا انخلا سکیورٹی کی صورتحال پر منفی اثر نہیں ڈالے گا اور اس کے کوئی منفی نتائج بھی سامنے نہیں آئیں گے۔

الموسوی نے وضاحت کی کہ عراقی سکیورٹی فورسز کئی برسوں سے انٹیلی جنس کارروائیوں اور میدانی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہی ہیں، اس لیے بعض عناصر کی جانب سے ان کی صلاحیتوں پر شک پیدا کرنے اور حالات کو خراب کرنے کی کوششیں بے بنیاد باتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عراقی سکیورٹی فورسز سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور عراق نے اپنی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کے باقی ماندہ عناصر اور منظم جرائم کے خلاف کارروائی میں ایک اہم سکیورٹی مرحلہ طے کر لیا ہے۔

اس طرح عراق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جس میں سکیورٹی کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ عراق کے اپنے قومی اداروں کو منتقل کی جا رہی ہے۔

تاہم اس مرحلے کو فضائی دفاع، انٹیلی جنس اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے شعبوں میں بعض چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ بغداد اور اربیل کے درمیان ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha