اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کے قومی حکمت دھڑے کے سربراہ اور قومی ریاستی فورسز کے اتحاد کے سربراہ سید عمار حکیم نے صوبہ بابل میں حشد الشعبی کے مرکز کے دورے کے دوران کہا کہ حشد الشعبی اعلیٰ مرجعیت کے مبارک فتوے کے نتیجے میں وجود میں آنے والی فورس ہے۔
عراق کے قومی حکمت دھڑے کے میڈیا دفتر کے مطابق، انہوں نے اس ملاقات میں دہشت گردی اور بعث پارٹی کے درمیان موجود تعاون کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حشد الشعبی اس چیلنج سے کہیں زیادہ طاقتور فورس تھی جس کا عراق کو اس تاریخی دور میں سامنا تھا، جبکہ اس وقت دہشت گردی کا خطرہ بغداد کے اطراف تک پہنچ چکا تھا۔
عمار حکیم نے اعلیٰ مرجعیت کے مبارک فتوے، بہائے جانے والے پاکیزہ خون اور عراقی قبائل کی غیرت کے اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہی عوامل نے دہشت گردی کے قبضے سے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے، انہیں آزاد کرانے اور عراق کے تحفظ میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے حشد الشعبی کے تحفظ، اس کے تفصیلی قانون اور ریٹائرمنٹ قانون کی منظوری، اسے ادارہ جاتی شکل دینے، اس کی مسلسل تربیت و اسلحہ فراہمی اور ہر وقت جنگی آمادگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
عراق کے قومی حکمت دھڑے کے سربراہ نے حشد الشعبی کے شہداء کے خاندانوں کی دیکھ بھال، شہداء کی یاد کو زندہ رکھنے اور ان کی یادوں اور دستاویزات کو محفوظ کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ ان کی یاد آنے والی نسلوں کے لیے باعث فخر اور عزت بنے۔
عمار حکیم نے مزید کہا کہ حکومت کے دائرہ کار سے باہر موجود اسلحے کے مسئلے کو حشد الشعبی کے حوالے کرنے کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے، کیونکہ حشد الشعبی ایک باضابطہ سکیورٹی ادارہ اور عراق کی سلامتی کے معادلے کا اہم عنصر ہے۔
عراق کے قومی حکمت دھڑے کے سربراہ نے مزید کہا کہ حشد الشعبی کے تحفظ اور ذاتی رجحانات کو اس پر اثر انداز ہونے سے روکنے کی ذمہ داری خود حشد الشعبی کی فورسز پر عائد ہوتی ہے۔
آپ کا تبصرہ