اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ممدانی نے سی این این کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کرتے ہیں تو وہ انہیں فلسطینی عوام کے خلاف ایک ہولناک نسل کشی کے معمار سمجھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ نیویارک کی میئر شپ کے پاس عالمی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کے لیے آزاد قانونی اختیار موجود نہیں ہے۔
ممدانی نے کہا کہ نیتن یاہو کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹ کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی شخص کو خود کو بین الاقوامی قوانین سے بالاتر نہیں سمجھنا چاہیے۔
عالمی فوجداری عدالت نے 2024 میں نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم سے متعلق الزامات کے تحت گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
ممدانی نے اس سے قبل انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ان کی گرفتاری کے لیے اقدام کریں گے، تاہم میئر کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے واضح کیا کہ نیویارک شہر کے پاس اس وارنٹ پر عمل درآمد کا آزاد قانونی اختیار نہیں ہے۔ ان کے مطابق گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کا اختیار امریکی وفاقی حکومت کے پاس ہے۔
نیتن یاہو جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں، جبکہ ان کے نیویارک دورے کے خلاف شہر میں کئی احتجاجی مظاہروں کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
ممدانی نے کہا کہ وہ ان مظاہروں میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتے، تاہم انہوں نے پُرامن احتجاج کرنے کے عوام کے حق کی حمایت کی ہے۔
آپ کا تبصرہ