اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، محورِ مزاحمت کے ممالک اور اسلامی ایران کے درمیان ثقافتی اشتراکات کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ یہ اشتراکات سیاسی، ثقافتی اور سماجی موضوعات کے علاوہ ان ممالک کے عوام کے ادب، زبان اور روزمرہ گفتگو میں بھی نظر آتے ہیں۔ زیرِ نظر تحریر میں یمن اور ایران کے عوامی کلچر میں پائی جانے والی مشترکہ کہاوتوں کا جائزہ لیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اشتراکات کے ایک حصے کو واضح کرتی ہیں۔
اس تحقیق میں معاصر یمنی محقق اسماعیل بن علی الاکوع، متوفی 2008ء، کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب ’’الأمثال الیمانیة‘‘ اور ڈاکٹر حسن ذوالفقاری کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب ’’فرہنگِ کہاوتهای فارسی‘‘ کو بنیادی ماخذ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
ان مشترکہ کہاوتوں میں بعض ایسے جملے بھی ہیں جنہیں ایک دوسرے کا لفظ بہ لفظ ترجمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ صورتِ حال ممکنہ طور پر ایک ثقافت سے دوسری ثقافت میں کسی کہاوت کے منتقل ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔
مثال کے طور پر ایرانی کہاوت ’’آبی از او گرم نمیشود‘‘ یعنی ’’اس سے کوئی کام نہیں ہو سکتا‘‘، یمن میں مستعمل عبارت ’’ما یَحمِی الماء‘‘ سے لفظی اور معنوی مشابہت رکھتی ہے اور اس وقت استعمال ہوتی ہے جب کوئی شخص کوئی کام کرنے سے عاجز ہو۔
ایک اور مثال ایرانی کہاوت ’’خیرت برای مردم و شرّت برای من‘‘ یعنی ’’تمہاری بھلائی لوگوں کے لیے اور تمہاری برائی میرے لیے‘‘ اور یمنی کہاوت ’’شَرَّک لنا و خیرک لِغَیرنا‘‘ ہے۔
اسی طرح ’’سر به سر‘‘ اور یمنی عبارت ’’راس بِراس‘‘ جبکہ ’’دنیا دار مکافات است‘‘ اور یمنی کہاوت ’’تَکاد الدنیا تَکُون دارجزاء‘‘ بھی اسی نوعیت کی مثالیں ہیں۔
مشترکہ کہاوتوں کا ایک دوسرا گروہ ان کہاوتوں پر مشتمل ہے جنہیں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، لیکن ان کے مفاہیم ایک جیسے ہیں۔
مثلاً یمنی کہاوت ’’فِی المَخلاه حَجر/حَصَمه‘‘ یعنی ’’اس کی توبرہ میں پتھر/کنکری ہے‘‘، ایرانی کہاوت ’’ریگی در کفش داشتن‘‘ یعنی ’’جوتے میں کنکری ہونا‘‘ سے مفہومی مشابہت رکھتی ہے۔
اسی طرح یمنی کہاوت ’’اِرزم علی السَّودا حَجَر‘‘ یعنی ’’جگر پر پتھر رکھو‘‘، مشہور ایرانی کہاوت ’’دندان بر جگر گذاشتن‘‘ یعنی ’’جگر پر دانت رکھنا‘‘ سے مشابہت رکھتی ہے۔
یمنی عبارت ’’المُوت مُثل النَّدی مُطل علی کُل جَبا‘‘ یعنی ’’موت ایسی بارش ہے جو ہر چھت پر برستی ہے‘‘ بھی مفہوم کے اعتبار سے ایرانی کہاوت ’’مرگ شتری است که درِ هر خانه مینشیند‘‘ یعنی ’’موت اس اونٹ کی مانند ہے جو ہر گھر کے دروازے پر آتا ہے‘‘ سے مشابہت رکھتی ہے۔
دونوں ممالک کے عوامی کلچر میں مشہور بعض حکایات میں بھی ایسے ثقافتی اشتراکات نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر یمنی حکایت ’’بکم القوس یا والد؟ قال: عَیجی لَک بِلاش‘‘ یعنی ’’ایک لڑکے نے اپنے بوڑھے اور جھکے ہوئے والد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا: ابا! اس کمان کی قیمت کتنی ہے؟ والد نے جواب دیا: تمہیں یہ مفت مل جائے گی‘‘، قابوس نامہ میں بیان کی گئی ایک حکایت سے خاصی مشابہت رکھتی ہے۔
قابوس نامہ میں یہ حکایت اس طرح بیان ہوئی ہے:
’’حکایت چنان شنودم کہ پیری صد ساله، گوژپشت، سخت دوتا گشته و بر عکازه (یعنی: عصایی) تکیه کرده همیرفت. جوانی به تماخره (یعنی: مسخرگی) وی را گفت: «ای شیخ! این کمانک به چند خریدهای؟ تا من نیز یکی بخرم.» پیر گفت: «اگر صبر کنی و عمر یابی خود رایگان یکی به تو بخشند، هرچند بپرهیزی.»‘‘
اس تحریر کے دیگر حصوں میں ایرانی ثقافت اور محورِ مزاحمت کے دیگر اسلامی ممالک کے درمیان پائی جانے والی مشترکہ کہاوتوں کی مزید مثالوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
سید علی اصغر حسینی / اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا
آپ کا تبصرہ