اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسپین کے وزیر خارجہ مانوئل آلبارس نے کہا ہے کہ غزہ اور ایران پر جارحیت اور لبنان و یمن کے خلاف حملے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپین خطے میں طاقت اور تشدد کی زبان کے مقابلے میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیتا ہے۔
انہوں نے خطے میں جاری جنگ میں کسی بھی قسم کی فوجی مدد فراہم نہ کرنے کے اسپین کے مستقل مؤقف پر بھی زور دیا اور کہا کہ میڈرڈ بدستور سفارت کاری کے راستے پر قائم ہے۔
اسپین کے وزیر خارجہ نے غزہ کی صورتحال کے بارے میں بھی کہا کہ ان کا ملک ضرورت مند افراد تک انسانی امداد پہنچنے سے روکنے کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قائم گزرگاہیں کھولی جائیں، جن میں اسپین کی جانب سے غزہ کے عوام کے لیے بھیجی جانے والی امداد بھی شامل ہے۔
آلبارس نے اسرائیلی حکام سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی و تعمیراتی ایجنسی، انروا، کو غزہ میں اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دیں۔
اسپین کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر پائیدار حل کے حصول کے لیے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے ملک کے مؤقف پر زور دیا اور کہا کہ میڈرڈ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی اشیا کی درآمد پر مکمل پابندی کے اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔
اسپین اس سے قبل بھی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کی مخالفت میں اسرائیلی بستیوں سے تیار شدہ اشیا کی درآمد پر پابندی کو اپنے اقدامات کا حصہ بنا چکا ہے۔
آپ کا تبصرہ