18 ستمبر 2026 - 15:23
ایران کے حملوں سے امریکی اڈوں کو بھاری نقصان، مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی کم کرنے کی بحث تیز

امریکی کانگریس کے قریب سمجھے جانے والے خبری ادارے ’’ہِل‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے بڑے پیمانے کے نقصانات نے خطے میں واشنگٹن کی فوجی موجودگی کم کرنے سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے خلیج فارس کے عرب ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کے غیر محفوظ ہونے کو نمایاں کر دیا ہے اور یہی معاملہ امریکہ میں خطے میں واشنگٹن کی فوجی موجودگی کم کرنے کے امکانات سے متعلق داخلی مباحث میں اہم موضوع بن گیا ہے۔

ہِل نے پینٹاگون کے اندر اور اس کے اردگرد ہونے والے مباحث سے باخبر افراد کے حوالے سے لکھا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجیوں کے انخلا یا ان کی تعداد میں کمی کا حتمی فیصلہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے پر منحصر ہوگا۔

دوسری جانب امریکہ کے بعض سابق قومی سلامتی حکام فوجی موجودگی میں کمی کو ایک ’’ضروری ازسرنو ترتیب‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

ہِل نے امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں 11 امریکی فوجی اڈوں پر تقریباً 70 عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے اور نقصانات کی مالیت تقریباً 5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں بھی کویت، اردن، عمان، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں پر ’’سیکڑوں عمارتوں اور تنصیبات‘‘ کو نقصان پہنچنے یا تباہ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

ڈیفنس پرائرٹیز نامی ادارے میں فوجی تجزیے کی ڈائریکٹر جینیفر کاوانا کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کے اطراف، بالخصوص بحرین، قطر اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کا ’’آسانی سے دفاع نہیں کیا جا سکتا‘‘ اور ان کی تعمیر نو کے باوجود مستقبل کے تنازعات میں دوبارہ نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔

امریکہ کے پاس اس وقت سینٹکام کی ذمہ داری کے تحت خطے میں 50 ہزار سے زائد فوجی موجود ہیں۔ یہ فوجی اردن سے عمان تک مختلف مقامات پر تعینات ہیں اور ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد کئی مرتبہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

اسی دوران امریکہ کے بعض سخت گیر حلقوں کے قریب سمجھے جانے والے گروہوں نے کچھ امریکی فوجیوں کو اسرائیل منتقل کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ زیر زمین تنصیبات میں فوجیوں کی تعیناتی اور فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے جیسے آپشنز بھی خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل سے متعلق مباحث میں زیر غور ہیں۔

ہِل نے آخر میں زور دیا ہے کہ ایران کے قریب واقع امریکی فوجی اڈوں پر فضائی دفاعی نظام مضبوط کرنے کی کوشش کو بھی ایک اہم رکاوٹ کا سامنا ہے اور وہ امریکی میزائل شکن نظام کے ذخائر میں کمی سے متعلق تشویش ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha