17 ستمبر 2026 - 16:38
عراقی عہدیدار کا دعویٰ: الزیدی حکومت نے الانبار کے تیل و گیس کے تمام میدان امریکی کمپنیوں کو دے دیے

عراق کے صوبہ الانبار کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے کے مغربی صحرائی علاقوں میں عالمی توانائی کمپنیوں کو سرمایہ کاری سے روکنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے تیل، گیس اور معدنیات سے مالا مال تمام علاقوں کو امریکی سرمایہ کاری کمپنیوں کے حوالے کردیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کے صوبہ الانبار کے ایک عہدیدار نے آج جمعرات کو مغربی الانبار کے صحرائی علاقوں میں توانائی کے شعبے سے وابستہ عالمی کمپنیوں کو سرمایہ کاری سے روکنے اور رکاوٹیں ڈالنے کی اصل وجہ بتائی ہے۔

اس عہدیدار نے خبر رساں ادارے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الانبار کی مقامی حکومت نے توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی عالمی سرمایہ کاری کمپنیوں کی تمام پیشکشیں مسترد کردیں، حالانکہ ان کمپنیوں نے عراق کے عوام کے مفاد میں پرکشش پیشکشیں دی تھیں۔

ان کے مطابق، یہ اقدام علی الزیدی کی سربراہی میں مرکزی حکومت کی ہدایات پر کیا گیا، جن کے تحت تیل، گیس اور معدنیات سے مالا مال تمام علاقوں اور گیس کے میدانوں کو امریکی سرمایہ کاری کمپنیوں کے حوالے کردیا گیا ہے۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ الزیدی حکومت نے تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے تمام مواقع امریکی کمپنیوں کو دے دیے اور الانبار کی مقامی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ان احکامات کی پابندی کرے اور کسی دوسری کمپنی کو سرمایہ کاری کا کوئی موقع فراہم نہ کرے، کیونکہ یہ معاملہ ریاستی اختیار سے متعلق ہے اور مقامی حکومتیں اپنے اختیارات کی حدود سے تجاوز نہیں کرسکتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے کے ماہرین اور درجنوں عالمی کمپنیوں پر مشتمل ایک امریکی وفد نے مختلف سرمایہ کاری منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں، تاہم یہ تجاویز بھی مسترد کردی گئیں، کیونکہ امریکہ نے ان وجوہات کی بنا پر اس اقدام کی مخالفت کی جو اب سب پر واضح ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha