17 ستمبر 2026 - 16:29
سعودی عرب کے ذریعے چین کو F-35 کی ٹیکنالوجی منتقل ہونے کا امریکی خدشہ

نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے سعودی عرب کے راستے چین کو F-35 جنگی طیاروں کی جدید ٹیکنالوجی تک ممکنہ رسائی کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اس خدشے سے سعودی عرب کو 24 ارب ڈالر کے F-35 طیاروں کی فروخت کا معاہدہ متاثر ہوسکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے بتایا ہے کہ بعض امریکی انٹیلی جنس حکام نے اپنی داخلی رپورٹس میں سعودی عرب کے ذریعے F-35 جنگی طیاروں کی حساس ٹیکنالوجی چین منتقل ہونے کے امکان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس منتقلی کے ممکنہ ذرائع میں جاسوسی یا بیجنگ اور ریاض کے درمیان فوجی و سکیورٹی تعاون شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کے خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب کو درجنوں F-35 جنگی طیارے فروخت کرنے کا تقریباً 24 ارب ڈالر کا معاہدہ زیر غور ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ امریکی محکمہ دفاع کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی نے چند ماہ قبل تیار کی گئی ایک رپورٹ میں چینی فوج کو سعودی عرب کے فوجی اڈوں تک ممکنہ رسائی اور مواصلاتی بنیادی ڈھانچے میں چینی ٹیکنالوجی کے استعمال کا جائزہ لیا تھا۔

اس رپورٹ میں F-35 جنگی طیاروں کی حساس ٹیکنالوجی کے تحفظ کے لیے امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے محفوظ علاقوں کے قیام کی صلاحیت پر بھی شکوک کا اظہار کیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ انٹیلی جنس جائزہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے متعدد اداروں اور امریکی کانگریس کے دفاتر میں زیر غور آیا ہے، جبکہ دیگر انٹیلی جنس اداروں نے بھی اس معاملے پر اپنی رپورٹس اور جائزے پیش کیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال نومبر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے موقع پر اس معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ نے بھی جون میں 48 جنگی طیاروں اور ایک اضافی انجن پر مشتمل مجوزہ فروخت کا پیکیج غیر رسمی جائزے کے لیے کانگریس کی دو کمیٹیوں کو بھیجا تھا۔

واشنگٹن کی مجوزہ پابندیاں

نیویارک ٹائمز کے مطابق F-35 کی ٹیکنالوجی کے تحفظ کے لیے زیر غور تجاویز میں سے ایک سعودی عرب میں ان جنگی طیاروں سے متعلق جدید ٹیکنالوجی رکھنے والی تنصیبات تک رسائی صرف سعودی اور امریکی شہریوں، بشمول غیر فوجی ٹھیکیداروں، تک محدود کرنا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس حکام نے اس حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے چینی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں اور ان سے وابستہ اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات محدود کرنے کی آمادگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب ریاض اور بیجنگ کے درمیان دفاعی تعاون بھی واشنگٹن کی تشویش کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔ سعودی عرب بڑے پیمانے پر امریکی ہتھیار درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور فوجی شعبوں میں چین کے ساتھ بھی تعاون کرتا ہے اور ماضی میں چین سے بیلسٹک میزائل بھی خرید چکا ہے۔

اس دوران امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کی نئی رپورٹ میں F-35 جنگی طیاروں کے جدید ریڈار اور سینسرز کی ٹیکنالوجی کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں سعودی عرب کے مواصلاتی اور سکیورٹی بنیادی ڈھانچے میں چینی کمپنیوں ہواوے اور زیڈ ٹی ای کے آلات کی موجودگی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha