17 ستمبر 2026 - 12:49
آٹلانٹک: ایران جنگ نے امریکی زوال کو نمایاں کر دیا

امریکی جریدے آٹلانٹک نے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ نے امریکا کی فوجی اور سیاسی طاقت کی ساختی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے اور عالمی سطح پر واشنگٹن کی طویل عرصے سے قائم بالادستی کے کمزور پڑنے کے آثار واضح ہوگئے ہیں۔

اہل بیت  نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق آٹلانٹک میں شائع مضمون میں سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے اسٹریٹجک اسٹڈیز کے پروفیسر فلپس پیسن اوبرائن نے لکھا کہ جدید ترین ہتھیاروں، وسیع فوجی اڈوں، مضبوط لاجسٹک نیٹ ورک اور متعدد اتحادیوں کے باوجود امریکا گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایران کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

تجزیے کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ نے یہ بھی ظاہر کیا کہ کم قیمت اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے درست نشانے والے ہتھیار بھی امریکا کے وسیع فوجی نظام کے لیے سنگین مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

امریکی فوجی اڈے بھی زد میں آئے

آٹلانٹک کے مطابق جنگ کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں امریکی فوجی اور سفارتی مراکز کو نشانہ بنایا۔ مضمون میں نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں 17 امریکی اڈوں، دفاعی تنصیبات اور سفارتی مراکز پر حملے ہوئے۔

ان مراکز میں بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر اور کویت کے علی السالم، عریفجان اور بوریگ اڈے شامل تھے۔

مضمون کے مطابق بعض اہم اڈوں کو نقصان پہنچنے سے امریکی فوج کے آپریشنل اور رسدی نظام پر فوری اثر پڑا، جبکہ بحرین کے اڈے کو نقصان پہنچنے کے بعد امریکی بحری افواج کے لیے رسد اور معاونت کا سلسلہ بحر ہند میں واقع جزیرہ ڈیگو گارسیا تک پھیلانا پڑا، جو آبنائے ہرمز سے 3200 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر ہے۔

امریکی میزائل ذخائر میں کمی

اوبرائن نے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق ایران جنگ کے دوران بعض جدید امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہوئے، جبکہ اپریل کے اختتام تک بعض مطالعات میں تھاڈ، پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور ٹام ہاک کروز میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی کی نشاندہی کی گئی تھی۔

آٹلانٹک کے مطابق مسئلہ صرف موجودہ ذخائر میں کمی کا نہیں بلکہ امریکی دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت کا بھی ہے۔ مضمون میں کہا گیا کہ امریکا گزشتہ برسوں میں مہنگے اور انتہائی جدید ہتھیاروں کی محدود پیداوار پر زیادہ انحصار کرتا رہا، جبکہ حالیہ جنگوں نے کم قیمت، درست اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے ہتھیاروں اور ڈرونز کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

چین امریکی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے

مضمون میں امریکی صنعتی صلاحیت میں کمی کو بھی واشنگٹن کی طاقت کے لیے ایک چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ آٹلانٹک کے مطابق چین دنیا کے تقریباً نصف بحری جہاز تیار کرتا ہے اور ڈرونز کی عالمی پیداوار میں بھی اس کا بڑا حصہ ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج شدید مگر مختصر جنگوں کے لیے منظم رہی ہے، جبکہ طویل جنگ کی صورت میں اس کے پاس مطلوبہ ہتھیاروں، گولہ بارود اور تیار افرادی قوت کے ذخائر محدود ہوسکتے ہیں۔

مضمون میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’’جارج واشنگٹن‘‘ کو بحرالکاہل سے بحیرہ عرب منتقل کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران واشنگٹن کو چین کے خلاف ممکنہ توازن برقرار رکھنے کے لیے مختص بعض وسائل بھی منتقل کرنا پڑے۔

روایتی اتحادیوں سے تعلقات میں تبدیلی

اوبرائن نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی اتحادی پالیسی پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق امریکا ماضی میں اتحادی ممالک کے نیٹ ورک کے ذریعے اپنی عالمی طاقت میں اضافہ کرتا تھا، تاہم موجودہ پالیسی میں بعض روایتی اتحادیوں کو امریکا سے غیر معمولی فائدہ اٹھانے والے ممالک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مضمون کے مطابق اس صورتحال نے جنوبی کوریا، یورپی ممالک اور کینیڈا سمیت بعض اتحادیوں کو اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے اور سکیورٹی کے لیے امریکا پر انحصار کم کرنے پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔

خطے میں بھی نئی سکیورٹی صف بندی

آٹلانٹک کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بدلتے ہوئے طاقت کے توازن نے مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کو بھی اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی پر آمادہ کیا ہے۔

مضمون میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے حالیہ دفاعی معاہدے کو بعض امریکی اتحادیوں کی جانب سے زیادہ خودمختار سکیورٹی انتظامات کی تلاش کی ایک مثال قرار دیا گیا ہے۔ عمان کے ایران کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور خلیجی عرب ممالک کی تہران کے ساتھ روابط پر نظرثانی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

تجزیے کے مطابق سعودی عرب، جو کئی دہائیوں سے امریکی ہتھیاروں اور امریکی فوجی موجودگی پر اپنے دفاعی نظام کا بڑا حصہ منحصر رکھتا آیا ہے، اب اپنی سکیورٹی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha