16 ستمبر 2026 - 15:53
یمن کے نائب وزیر خارجہ: سعودی عرب اسلامی مقدسات کی توہین کا ذمہ دار ہے

یمن کے نائب وزیر خارجہ عبدالواحد ابوراس نے سعودی عرب کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ جو لوگ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی بے حرمتی کرتے اور صیہونی ریاست سے تعلقات قائم کرتے ہیں، وہ خود کو اسلامی مقدسات کا محافظ قرار نہیں دے سکتے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کے نائب وزیر خارجہ عبدالواحد ابوراس نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’سبا‘‘ کو دیے گئے ایک بیان میں سعودی عرب پر اسلامی مقدس مقامات کی بے حرمتی اور امت مسلمہ کے دشمنوں کی حمایت کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا: ’’جس شخص نے کعبہ کا غلاف جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کو تحفے میں دیا، وہی مکہ مکرمہ اور اسلامی مقدسات کو نشانہ بنانے والا شخص ہے۔‘‘

ابوراس نے مزید دعویٰ کیا کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کو تفریحی پروگراموں اور ان کے بقول ’’فسق و فجور‘‘ کے لیے کھولنا اور ان مقامات پر صیہونی یہودیوں کو آنے کی اجازت دینا اسلامی مقدسات کی بے حرمتی کا باعث بنا ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کے صیہونی ریاست کے ساتھ تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی اس ریاست کے ساتھ خفیہ یا علانیہ تعلقات قائم کرتا ہے، وہ ان کے بقول مسجد الاقصیٰ، مکہ مکرمہ اور دیگر اسلامی مقدسات کو نشانہ بنانے والوں کی صف میں شامل ہے۔

یمن کے نائب وزیر خارجہ نے کعبہ کے ’’یمنی کونے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے یمنی عوام کے خانہ خدا اور اسلامی مقدسات سے تعلق کی علامت قرار دیا اور کہا کہ یمنی عوام نے قدس اور اسلامی مقدسات کی حمایت میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، جن میں ’’شہداء کی حکومت‘‘ کی قربانی بھی شامل ہے۔

ابوراس نے سعودی عرب کے ساتھ یمن کے اختلافات میں سے ایک مسئلہ ’’اسلامی مقدس مقامات کی بے حرمتی اور دشمنوں کی حمایت‘‘ کو قرار دیا اور کہا کہ جب بھی اسلامی مقدسات، قرآن کریم، رسول اکرم (ص) سے لے کر مکہ مکرمہ اور مسجد الاقصیٰ تک، کی توہین کی جاتی ہے تو یمنی عوام بڑے پیمانے پر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یمنی عوام اسلامی مقدسات کی بے حرمتی اور تحقیر کے معاملے میں خاص حساسیت رکھتے ہیں اور ایسے اقدامات پر خاموش نہیں رہتے۔

یمن کے نائب وزیر خارجہ نے صیہونی میڈیا کی جانب سے یمنی عوام کے بارے میں کیے جانے والے دعووں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان عناصر کو ’’انصار‘‘ یعنی رسول اکرم (ص) کے یاران کے خلاف اپنے اقدامات کا جواز پیش کرنے کے لیے کوئی اور بہانہ تلاش کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے بقول یہ دعوے موجودہ مؤقف اور تاریخی شواہد سے مطابقت نہیں رکھتے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha