اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے کہا ہے کہ یمنی فوج کی جانب سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہیں بالکل بے بنیاد اور سراسر جھوٹ ہیں۔
انہوں نے مذہبی حساسیت کا حوالہ دیتے ہوئے ان دعوؤں کو مسترد کیا اور کہا کہ یمنی عوام اسلامی مقدسات کے تحفظ کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس ہیں۔
محمد الفرح نے مزید کہا کہ سعودی عرب اپنے داخلی مسائل اور ناکامیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹے بہانے تراش رہا ہے اور عالمی حمایت حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کے جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے سعودی عرب کی موجودہ صورتحال کو ’’حقیقی بحران‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی پیدا کرکے اس ملک کے بنیادی مسائل کو عالمی برادری کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بحران کے خاتمے کا راستہ ’’جارحیت کا خاتمہ، محاصرہ ختم کرنا اور امن و سکون کی بحالی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ یمن کو آزاد چھوڑنا اور برسوں کی جنگ و تباہی سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا ہے۔
محمد الفرح نے خبردار کیا کہ موجودہ راستہ جاری رکھنے اور بیرونی حمایت حاصل کرنے سے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور جو بھی کشیدگی میں اضافے کی کوشش کرے گا، وہ اس کے نتائج کا ذمہ دار ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پالیسی کو جاری رکھنا سعودی عرب کی قومی سلامتی، اہم بنیادی ڈھانچے اور تیل کی تنصیبات کے ساتھ ایک خطرناک کھیل کے مترادف ہے۔
انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے ایک اور رکن حزام الاسد نے بھی کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے دعوے ایک ایسا جھوٹ ہیں جو اس سے پہلے بھی استعمال کیا جا چکا ہے۔
آپ کا تبصرہ