16 ستمبر 2026 - 15:08
الخلیل میں مسجد ابراہیمی فلسطینیوں کے لیے بند، اسکولوں کی تعلیم بھی متاثر

 اسرائیلی فوج نے یہودی آبادکاروں کی مذہبی تقریبات کی سکیورٹی کے نام پر مسجد ابراہیمی کو فلسطینی شہریوں کے لیے جمعرات کی شام تک بند کردیا، جبکہ مسجد سے متصل دو فلسطینی اسکولوں میں بھی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوگئیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج نے آج بدھ کے روز الخلیل میں مسجد ابراہیمی کو فلسطینیوں کے لیے بند کیا اور مسجد کے اطراف فوجی اقدامات سخت کرتے ہوئے متعدد چیک پوسٹیں قائم کردیں۔

رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کے باعث مسجد ابراہیمی سے متصل دو پرائمری اسکولوں، ابراہیمی بوائز اسکول اور الفیحاء گرلز اسکول کے طلبہ اور تدریسی عملے کو اسکولوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ابراہیمی اسکول میں تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل جبکہ الفیحاء اسکول میں تعلیم کا سلسلہ متاثر ہوا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مسجد ابراہیمی کی جانب جانے والے راستوں کے داخلی مقامات پر اپنی موجودگی مزید بڑھا دی ہے، جبکہ الخلیل کے قدیم حصے کے بازاروں کی جانب جانے والے بعض دروازے بھی بند کردیئے گئے ہیں۔

الخلیل کے اوقاف کے سربراہ امجد کاراجا نے مسجد ابراہیمی کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسجد کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی اور مسلمانوں کے اپنے عبادت گاہ تک رسائی کے حق پر حملہ قرار دیا۔

مسجد ابراہیمی مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لیے مقدس مقام ہے اور طویل عرصے سے الخلیل میں کشیدگی کا مرکز رہی ہے۔ مسجد کے بعض حصے یہودی عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے سخت سکیورٹی اقدامات کے باعث فلسطینیوں کی مسجد اور قریبی اسکولوں تک رسائی متعدد مرتبہ محدود کی جا چکی ہے۔

الخلیل مغربی کنارے کے ان شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں پرانے شہر کے وسط میں یہودی آبادکاروں کی موجودگی کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔
 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha