اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن محمدعلی الحوثی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ یمن کی فوج کی ساحلی علاقوں میں موجودگی، حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بعد، عرب قومی سلامتی اور بحیرہ احمر کی سلامتی کی ضمانت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمن کی جمہوریہ اپنی خودمختاری اور عوام کا دفاع کر رہی ہے اور بیرونی جارحیت، محاصرے اور مسلط کردہ پابندیوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ ان کے بقول صنعاء نے ان مقاصد کا واضح طور پر اعلان کر رکھا ہے۔
الحوثی نے یمن کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’جس وجود سے خوفزدہ ہونے اور اسے خطرہ سمجھنے کی ضرورت ہے، وہ غاصب وجود ہے۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یمن کے خلاف بننے والا کوئی بھی نیا اتحاد بھی ماضی کے اتحادوں جیسا انجام دیکھے گا، جو 2015 سے اب تک ناکامی سے دوچار ہوتے رہے ہیں۔
یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن نے صنعاء کے خلاف جاری کیے جانے والے پروپیگنڈے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران عالمی رائے عامہ پر اس پروپیگنڈے کا جھوٹ واضح ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران یمن نے اپنے ملک کے تحفظ اور اپنے عوام کے مسائل و حقوق کے دفاع کے حوالے سے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، اس سے یمن کی جانب سے اپنے اعلان کردہ مؤقف پر ثابت قدمی اور اس کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔
یمن کے خلاف ’’بچاؤ آپریشن‘‘ کے نام پر کارروائی سے خبردار
الحوثی نے اپنے بیان کے ایک اور حصے میں کہا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے یمن کے خلاف ’’بچاؤ‘‘ کے عنوان سے شروع کیا جانے والا آپریشن درحقیقت دوسرے فریق کی حمایت کے لیے پیشگی اقدام اور خطے کے خلاف جارحیت و دھمکیوں کو جاری رکھنے کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعاء کے نزدیک ایسے اقدامات کا مقابلہ کرنا یمن اور خطے کے خلاف خطرات کے تسلسل کو روکنے کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہوگا۔
آپ کا تبصرہ