15 ستمبر 2026 - 13:38
بھارتی سول سوسائٹی گروپوں کا برکس سے غزہ میں جنگ بندی اور پابندیوں کا مطالبہ

بھارتی سول سوسائٹی کے مختلف گروپوں نے نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے شرکاء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اجتماعی اقدامات کریں، غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے کردار ادا کریں اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کی حمایت کریں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، انڈو فلسطین سولیڈیریٹی نیٹ ورک اور بھارتی سول سوسائٹی کے متعدد نمائندوں نے برکس رہنماؤں کے نام ایک خط میں اسرائیل کے بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے خاتمے اور پابندیوں کی حمایت، اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت معطل کرنے کے لیے اقدامات اور ایسی فوجی و اقتصادی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو ممکن بناتی ہے۔

یہ خط ۱۱ ستمبر کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعے برکس کے رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت کو بھیجا گیا۔ مودی ۲۰۲۶ میں برکس کی صدارت کر رہے ہیں۔

گروپوں نے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی اور غزہ کا محاصرہ مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

خط میں کہا گیا کہ برکس دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر اس کے کردار کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔ گروپوں کے مطابق عالمی جنوب عالمی حکمرانی میں زیادہ کردار کا مطالبہ اس وقت تک مؤثر انداز میں نہیں کر سکتا جب تک وہ مغربی ایشیا میں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر خاموش یا محتاط رویہ اختیار کرتا رہے۔

خط میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ دائر کرنے کو بھی برکس کی ذمہ داری کا ایک اہم اظہار قرار دیا گیا۔

بھارتی گروپوں نے کہا کہ اکتوبر ۲۰۲۵ میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود غزہ میں جنگ ختم نہیں ہوئی اور فلسطینی طبی حکام کے مطابق اس کے بعد اسرائیلی حملوں میں ۱۲۷۰ سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے انسانی امداد پر پابندی، اسپتالوں میں ضروری ادویات کی قلت اور غزہ کے جاری محاصرے کی بھی نشاندہی کی۔

انڈو فلسطین سولیڈیریٹی نیٹ ورک نے برکس سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے قبضے، نسل پرستانہ پالیسیوں اور فلسطینیوں کے قومی و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے تک بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے خاتمے اور پابندیوں کی حمایت کی جائے۔

گروپوں نے اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت معطل کرنے کے لیے اجتماعی اقدام کا بھی مطالبہ کیا اور ۱۹۷۴ میں نسل پرست جنوبی افریقہ کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کارروائی کو اس حوالے سے مثال قرار دیا۔

خط میں برکس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایک منصفانہ اور جامع سیاسی حل کے لیے مذاکرات شروع کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرے۔ گروپوں کے مطابق ایسے مذاکرات ایک بار پھر امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے زیر کنٹرول نہیں ہونے چاہئیں اور فلسطینیوں کو اپنے مستقبل سے متعلق ہر فیصلے میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha