اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی ریاست کی فضائی و خلائی صنعت کے سربراہ بوعز لوی نے طویل جنگ اور بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل حملوں کے نتیجے میں میزائل شکن ذخائر پر پڑنے والے دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صیہونی ریاست کو اپنے دفاعی نظام کے لیے مزید میزائل شکن میزائلوں کی ضرورت ہے اور ان کی مسلسل تیاری ناگزیر ہو چکی ہے۔
میزائل شکن ذخائر کی کمی کا اعتراف
بوعز لوی نے صیہونی اخبار ’’وائی نیٹ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صیہونی ریاست کو اندرونی اور امریکی پابندیوں و محدودیتوں کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق، تقریباً تین سال سے جاری جنگ اور بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل داغے جانے کے باعث میزائل شکن میزائلوں کی مسلسل فراہمی اور پیداوار کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے میزائلوں کے ذخائر کی صورتحال کے بارے میں واضح طور پر کہا کہ مزید میزائل شکن میزائل حاصل کرنے کی ضرورت ہمیشہ موجود رہے گی۔
صیہونی صنعت کے سربراہ نے مزید کہا کہ زیادہ میزائل شکن میزائل تیار کرنے کے لیے اضافی بجٹ درکار ہے، جبکہ اس وقت مالی وسائل محدود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے طویل ہونے کے ساتھ ایک طرف ہتھیاروں کی تیاری پر دباؤ بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف صیہونی ریاست میں فوجی بجٹ میں اضافے کے معاملے پر اندرونی اختلافات بھی برقرار ہیں۔
خلیجی ممالک کو دفاعی نظام فروخت کرنے کی کوشش
بوعز لوی نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی انکشاف کیا کہ صیہونی ریاست اپنے دفاعی اور فوجی نظام فروخت کرنے کے لیے خلیج فارس کے بعض ممالک سے مذاکرات کر رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض عرب ممالک کے ساتھ سکیورٹی تعاون صیہونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
ان کے مطابق، خلیجی ممالک کے ساتھ فوجی اور دفاعی معاہدے مستقبل میں وسیع تر تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو سکتے ہیں اور ان کے سیاسی و سکیورٹی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
صیہونی صنعت کے سربراہ کے یہ اعترافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تل ابیب ایک جانب اپنے میزائل شکن ذخائر اور دفاعی بجٹ پر دباؤ کا اعتراف کر رہا ہے اور دوسری جانب خطے کے عرب ممالک میں اپنے فوجی سازوسامان کی منڈی وسیع کرنے اور دفاعی تعاون کو تعلقات معمول پر لانے کے عمل سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ