اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے واٹیکان میں سفیر محمدحسین مختاری نے کہا ہے کہ حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں نے ایرانی عوام میں قومی یکجہتی، خودمختاری اور بیرونی مداخلت کے خلاف عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں خاموش نہیں رہے گا اور اپنی خودمختاری و قومی مفادات کا دفاع کرے گا۔
ایرانی سفیر نے آبنائے ہرمز پر امریکی مکمل کنٹرول کے دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی سلامتی بمباری اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے نہیں بلکہ علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ممکن ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی جارحیت کا دائرہ پھیلنے کی صورت میں پورا خطہ سنگین اور ناقابلِ پیش گوئی نتائج سے دوچار ہوسکتا ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو اہم ذریعہ سمجھتا ہے، تاہم اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ غیر فعال نہیں رہے گا۔
ان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو خطہ ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے، جس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے۔
محمدحسین مختاری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی دعووں اور زمینی حقائق میں فرق کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے دعوے خطے کی پیچیدہ زمینی صورتحال کی عکاسی کرنے کے بجائے واشنگٹن کی جانب سے جنگ کے سیاسی اخراجات کو منظم کرنے اور اندرونِ ملک فوجی کامیابی دکھانے کی کوشش ہوسکتے ہیں۔
ایرانی سفیر نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے مسائل جاری رہے تو توانائی کی قیمتوں، عالمی تجارت، سرمایہ کاری اور سپلائی چینز پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
مختاری نے ایران کی داخلی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں کے دوران ایرانی عوام نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیرونی دباؤ نے ایرانی معاشرے میں قومی خودمختاری اور آزادی کے تصور کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ایرانی سفیر کے مطابق ایران میں مختلف سیاسی نظریات اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید اپنی جگہ موجود ہوسکتی ہے، لیکن اس بنیاد پر کسی غیرملکی حکومت کو یہ حق نہیں مل جاتا کہ وہ جنگ یا دباؤ کے ذریعے ایران کے داخلی سیاسی مستقبل کا تعین کرے۔
آپ کا تبصرہ