اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی حکومت کی جانب سے ’’مکمل قومی خودمختاری‘‘ کے دعوے شمالی عراق میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں اور مسلسل پیش قدمی کے باعث ایک بڑے چیلنج سے دوچار ہیں۔ اس صورتحال کے باوجود سیاسی حلقوں اور عوام کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ حکومت اس حساس معاملے کو عالمی اور سفارتی فورمز پر اٹھانے سے گریز کیوں کررہی ہے۔
یہ بحث ایسے وقت میں جاری ہے جب ماہرین کے مطابق انقرہ کی جانب سے عراق میں فوجی مداخلت جاری رکھنے کے لیے ماضی میں پیش کیے جانے والے تمام جواز اور دلائل ختم ہوچکے ہیں۔ خاص طور پر بغداد کی جانب سے کردستان ورکرز پارٹی کو غیر مسلح کرنے اور اسے ممنوعہ تنظیم قرار دینے کے باضابطہ قوانین کے اجرا کے بعد یہ صورتحال مزید واضح ہوگئی ہے۔ اس صورتحال نے عراقی حکومت کے سیاسی عزم کو قومی سطح پر جوابدہی کے سوال سے دوچار کردیا ہے۔
اس تضاد نے سرکاری سطح پر اس معاملے سے چشم پوشی کی وجوہات کے بارے میں مختلف بحثوں کو جنم دیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ علاقائی دباؤ اور پانی کے مسئلے اور اسٹریٹجک ترقیاتی راہداری جیسے پیچیدہ معاشی معاملات بغداد کو انقرہ کے خلاف اپنا ردعمل محدود رکھنے پر مجبور کررہے ہیں، جبکہ بعض دیگر حلقے پس پردہ معاہدوں یا حکمران اتحاد میں انقرہ کے ساتھ کشیدگی سے نمٹنے کے حوالے سے متفقہ پالیسی نہ ہونے کی بات کررہے ہیں۔
اس غیر واضح صورتحال میں عراقی عوام کے درمیان بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر سرحدوں پر مسلح خطرے کے خاتمے کے بعد ترکیہ کے تمام جواز ختم ہوچکے ہیں تو پھر ترکیہ کی پیش قدمی کو نظر انداز کرنے میں کس کا مفاد ہے اور جس حکومت نے مکمل قومی خودمختاری بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، اس کی ترجیحات میں قومی خودمختاری پیچھے کیوں چلی گئی ہے؟
سکیورٹی امور کے ماہر عبدالکریم خلف نے بدھ کے روز حکومت پر شمالی عراق میں ترک فوج کی موجودگی کے معاملے پر حقیقی توجہ نہ دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ اس خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سابقہ معاہدوں سے آگے اپنی فوجی موجودگی کا دائرہ وسیع کررہا ہے اور عراق کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی کررہا ہے۔
انہوں نے خبررساں ادارے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’اس وقت بغداد اور انقرہ کے درمیان اس حساس معاملے کو حل کرنے اور ترک فوج کی موجودگی ختم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں یا سنجیدہ مذاکرات کے آغاز کے حوالے سے کوئی معلومات یا آثار موجود نہیں ہیں۔‘‘
خلف نے مزید کہا: ’’عراق میں فوجی مداخلت کے لیے ترک فوج جن تمام جوازوں کا سہارا لیتی تھی، وہ مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں، بالخصوص کردستان ورکرز پارٹی کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے عراق کے باضابطہ قوانین کے اجرا کے بعد۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ ترک فوج کی موجودگی کا خاتمہ مکمل قومی خودمختاری کے قیام کے لیے عوام کا فوری مطالبہ ہے۔
دوسری جانب سکیورٹی ماہر عدنان الکنانی نے کردستان کی علاقائی حکومت پر شمالی عراق میں ترک قابض فوج کی موجودگی مستحکم کرنے اور کردستان ورکرز پارٹی کے عناصر کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے براہ راست تعاون کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے بغداد میں حساس سرکاری مراکز پر پیشمرگہ فورسز کی ایک بریگیڈ تعینات کیے جانے پر بھی تنقید کی۔
الکنانی نے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’مسرور بارزانی کی قیادت میں کردستان کی علاقائی حکومت کی جانب سے شمالی علاقوں میں ترک فوج کی موجودگی جاری رکھنے کی اجازت دینے کے لیے واضح تعاون موجود ہے، جبکہ سنجار کے علاقے اور قندیل کے پہاڑی سلسلے میں کردستان ورکرز پارٹی کے مسلح عناصر کی موجودگی سے بھی چشم پوشی کی جارہی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’اگر پیشمرگہ فورسز واقعی کردستان کے تحفظ کے لیے ہیں، جیسا کہ اربیل حکومت کا دعویٰ ہے، تو انہیں ترک قابض فوج اور کردستان ورکرز پارٹی کے عناصر کو عراق کی سرزمین سے نکالنا چاہیے تھا، نہ کہ مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے ماتحت آنے سے انکار کرنا چاہیے۔‘‘
الکنانی نے مزید کہا: ’’کردستان کی علاقائی حکومت پیشمرگہ فورسز کا معاملہ بغداد کے حوالے کرنے سے انکار کرتی ہے، لیکن دوسری جانب صدر کی حفاظت کے بہانے ایک مکمل فوجی بریگیڈ کو دارالحکومت بغداد کے انتہائی حساس سکیورٹی اور سرکاری مراکز میں تعینات کردیا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے وفاقی سرحدی محافظ فورسز کے ذریعے ترکیہ اور ایران کے ساتھ سرحدی پٹی پر اپنا کنٹرول مضبوط کرے تاکہ بیرونی مداخلت کا راستہ روکا جاسکے۔
آپ کا تبصرہ