اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ہیومن رائٹس واچ اور ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کلینک نے ایک مشترکہ رپورٹ میں جنوبی لبنان میں صیہونی فوج کی جانب سے سفید فاسفورس کے گولہ بارود کے استعمال کو اس ہتھیار کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے نئے بین الاقوامی قانون کی ضرورت کی علامت قرار دیا ہے اور ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اکتوبر 2026 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تخفیف اسلحہ اجلاس میں اس معاملے کو اٹھائیں۔
رپورٹ میں مارچ سے مئی 2026 کے دوران جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے سفید فاسفورس کے گولہ بارود کے استعمال کے 23 مصدقہ واقعات کی دستاویز پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں حالیہ برسوں کے مسلح تنازعات میں ان ہتھیاروں کے استعمال کے انسانی اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی اسلحہ امور کی سینئر مشیر اور ہارورڈ کے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کلینک کی مدرس بونی دوکرتی نے خبردار کیا کہ سفید فاسفورس انتہائی تکلیف دہ جلنے کا سبب بن سکتا ہے اور اس سے ہونے والے جسمانی، نفسیاتی، سماجی اور معاشی نقصانات پوری زندگی برقرار رہ سکتے ہیں۔
دونوں انسانی حقوق کے اداروں نے اپنی رپورٹ میں سفید فاسفورس کے گولہ بارود کے استعمال کا جائزہ بین الاقوامی انسانی قانون میں موجود ’’مارٹنز شق‘‘ کی بنیاد پر لیا ہے۔ یہ اصول واضح قانونی ضوابط موجود نہ ہونے کی صورت میں بھی انسانی اصولوں اور عوامی ضمیر کے تقاضوں کے مطابق شہریوں اور جنگ میں شریک افراد کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سفید فاسفورس انسان کے جسم کو ہڈی تک جلا سکتا ہے، جبکہ زخموں میں باقی رہ جانے والے اس کے ذرات آکسیجن کے ساتھ رابطے میں آنے پر دوبارہ شعلہ پکڑ سکتے ہیں، جس سے ایسے زخموں کا علاج بھی مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سفید فاسفورس کے گولہ بارود کو اس کی زہریلی خصوصیات کے بجائے جلانے کی خصوصیت کے باعث کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے دائرے میں شامل نہیں کیا جاتا اور اب تک اس سے متعلق زیادہ تر بحث روایتی ہتھیاروں کے کنونشن کے تحت ہوتی رہی ہے۔
تاہم اس کنونشن میں اتفاقِ رائے کی بنیاد پر فیصلہ سازی کے طریقہ کار اور روس سمیت بعض دیگر ممالک کی مخالفت کے باعث آتش گیر ہتھیاروں کے انسانی اثرات کا جائزہ لینے اور موجودہ قوانین کو مضبوط بنانے کے لیے کافی وقت مختص نہیں کیا جا سکا۔
ہیومن رائٹس واچ اور ہارورڈ کے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کلینک نے سفید فاسفورس پر مزید پابندیوں کی حمایت کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 16 سے 20 نومبر کو جنیوا میں ہونے والی روایتی ہتھیاروں کے کنونشن کی پانچ سالہ جائزہ کانفرنس میں بھی اس معاملے کو آگے بڑھائیں۔
بونی دوکرتی نے زور دیا کہ حتمی مقصد ایک مضبوط بین الاقوامی قانون کی منظوری ہونا چاہیے جو موجودہ قانونی خلا کو دور کرے اور سفید فاسفورس کے گولہ بارود کی تیاری، منتقلی اور استعمال پر پابندی عائد کرے۔
آپ کا تبصرہ