10 ستمبر 2026 - 16:46
برطانیہ سے کشیدگی پر ٹرمپ کی خاموشی، نیتن یاہو کے لیے خطرے کی گھنٹی

برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ نے برطانیہ اور صیہونی حکومت کے درمیان حالیہ کشیدگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان اختلافات پر ٹرمپ انتظامیہ کی خاموشی معنی خیز ہے اور ممکن ہے کہ یہ مقبوضہ مغربی کنارے سے متعلق بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں پر وائٹ ہاؤس کی ناراضی کی عکاسی کرتی ہو۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کے مصنف ڈونلڈ مک اینٹائر نے اپنے ایک مضمون میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال سے متعلق برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے اس کا موازنہ سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی پالیسیوں سے کیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ مارگریٹ تھیچر نے اپنے دور حکومت میں فلسطینیوں کے لیے منصفانہ اور پائیدار حل کے حصول کے مقصد سے امریکا اور صیہونی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ اس دوران صیہونی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے مناخیم بیگن اور اسحاق شامیر کے اقدامات بھی تھیچر کے لیے باعثِ تشویش اور غصے کا سبب بنے تھے۔

مک اینٹائر نے صیہونی حکام کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کے خلاف برطانیہ کی تجارتی پابندیاں ایک بائیں بازو کی حکومت کے برسراقتدار ہونے کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مارگریٹ تھیچر کا تعلق کنزرویٹو پارٹی سے تھا۔

انہوں نے صیہونی حکومت کے وزیر خارجہ گیڈون ساعر کی جانب سے ایڈ ملی بینڈ پر کیے گئے سخت حملوں کا بھی ذکر کیا۔ ساعر نے ملی بینڈ کو ’’کھلا جھوٹا‘‘ قرار دیا، تاہم اپنے الزام کے حق میں کوئی مثال پیش نہیں کی۔

انڈیپنڈنٹ کے مصنف نے صیہونی حکومت میں امریکی سفیر مائیک ہاکابی کے ملی بینڈ کے خلاف سخت ردعمل اور انہیں یہود دشمن قرار دینے پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق ہاکابی کا مؤقف ان کے انجیلی صہیونی مسیحی نظریات سے متاثر ہے۔

مک اینٹائر نے ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ ایڈ ملی بینڈ خود بھی یہودی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب صیہونی حکومت کی توجہ برطانیہ پر دباؤ ڈالنے پر مرکوز ہے، تو کینیڈا اور فرانس جیسے ممالک کی جانب سے اسی نوعیت کے اقدامات بھی تل ابیب کے لیے تشویش کا باعث ہونے چاہئیں۔

مک اینٹائر نے لکھا کہ نیتن یاہو کو پہلے یہ یقین تھا کہ بیشتر مغربی ممالک صیہونی حکومت کی مسلسل حمایت میں امریکا کے مؤقف کی پیروی کریں گے، لیکن بظاہر اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ ابھی کسی نئی عالمی صف بندی کی بات کرنا قبل از وقت ہے، تاہم نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں کا تسلسل صیہونی حکومت کو جمہوری ممالک کے درمیان ایک ’’ناپسندیدہ ریاست‘‘ میں تبدیل ہونے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔

انڈیپنڈنٹ کے مصنف نے آخر میں امکان ظاہر کیا کہ مائیک ہاکابی کا مؤقف ٹرمپ انتظامیہ میں ایک استثنائی موقف ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر برطانوی حکومت کو اپنے اقدامات سے پیچھے ہٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

ان کے بقول، امریکی ویب سائٹ آکسیوس کی شائع کردہ ایک رپورٹ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے مداخلت نہ کرنا مغربی کنارے سے متعلق نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں پر امریکا کی ناراضی کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ معاملہ کنیسٹ کے انتخابات کے قریب نیتن یاہو کے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث بن سکتا ہے، بالخصوص اگر ٹرمپ مغربی کنارے کو ضم کرنے کے نیتن یاہو کے منصوبوں کی حمایت کم کر دیتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha