اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فرانس میں مسلمانوں کی آبادی 55 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے اور یہ ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 8 سے 9 فیصد بنتی ہے۔ تاہم فرانسیسی قوانین مذہب یا نسلی وابستگی کی بنیاد پر آبادی کی سرکاری مردم شماری کی اجازت نہیں دیتے، جس کے باعث مسلمانوں کی درست تعداد کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں۔
پیُو ریسرچ سینٹر نے 2016ء میں فرانس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 57 لاکھ، یعنی مجموعی آبادی کا 8.8 فیصد، بتائی تھی۔ تاہم مختلف تحقیقی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اس سے مختلف اعداد و شمار بھی پیش کیے جاتے رہے ہیں۔
فرانس میں مسلمانوں کی تاریخی موجودگی
فرانس میں اسلام کی موجودگی کی تاریخ آٹھویں صدی عیسوی تک پہنچتی ہے، تاہم موجودہ مسلم معاشرے کی تشکیل بنیادی طور پر پہلی جنگ عظیم کے بعد ہوئی، جب فرانس نے مسلم ممالک بالخصوص الجزائر سے افرادی قوت حاصل کرنا شروع کی۔
بعد ازاں عرب اور دیگر مسلم ممالک سے آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا اور عارضی طور پر آنے والے بہت سے افراد مستقل طور پر فرانس میں آباد ہوگئے۔ آج ان کی تیسری اور چوتھی نسل فرانس میں پیدا ہوئی ہے اور وہ خود کو اسی ملک کا شہری سمجھتی ہے۔
فرانس میں مقیم مسلمانوں میں الجزائر سے تعلق رکھنے والے افراد سب سے بڑا گروہ ہیں، جن کی تعداد مسلم آبادی کا تقریباً 35 فیصد بتائی جاتی ہے۔ اس کے بعد مراکش سے تعلق رکھنے والے افراد تقریباً 25 فیصد اور تیونس کے باشندے تقریباً 10 فیصد ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی، مصر، لیبیا اور مختلف افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والی بڑی مسلم آبادیاں بھی فرانس میں موجود ہیں۔
اسلام مخالف ماحول اور نئی صورت حال
رپورٹ کے مطابق، حالیہ برسوں میں اسلام مخالف نفرت انگیزی، امتیازی اقدامات، سیاسی دباؤ اور مذہبی آزادیوں سے متعلق پابندیوں میں اضافے نے فرانسیسی مسلمانوں کے لیے حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
اسی صورتحال کے باعث بعض مسلم خاندان اور افراد، جو کئی نسلوں سے فرانس میں آباد ہیں، اپنے مذہبی تشخص سے متعلق بڑھتے ہوئے دباؤ سے بچنے کے لیے خاموشی سے دوسرے ممالک منتقل ہو رہے ہیں؛ ایک ایسا رجحان جسے رپورٹ میں ’’خاموش ہجرت‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ