اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی مصنف اکرم بزی نے اپنے ایک مضمون میں اسرائیل کے حوالے سے لبنانی حکومت کے سرکاری مؤقف پر سخت تنقید کرتے ہوئے صدر جوزف عون کے حالیہ بیان کو غیر واضح اور دوٹوک مؤقف سے گریز قرار دیا ہے۔
اکرم بزی نے جوزف عون کے اس سوال پر کہ ’’اسرائیل امن چاہتا ہے یا جنگ؟‘‘ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں، شہریوں کی شہادت، تباہی اور بے دخلی کے باوجود اسرائیل کے ارادوں کے بارے میں اب بھی سوال اٹھانا حیران کن ہے۔
لبنانی مصنف کے مطابق، جوزف عون اپنے فوجی پس منظر کی وجہ سے بخوبی جانتے ہیں کہ اسرائیل اور اس کی فوج لبنان کے لیے کس نوعیت کا خطرہ رہے ہیں اور ماضی میں لبنانی فوجی بھی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں اسرائیل امن کا خواہاں ہے یا جنگ کا، اس بارے میں تذبذب کا اظہار زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول، عوام ایسے وقت میں حکام سے واضح اور دوٹوک مؤقف کی توقع رکھتے ہیں، نہ کہ مبہم سفارتی بیانات کی۔
اکرم بزی نے اسرائیل کے ساتھ ہونے والی سرکاری ملاقاتوں اور مذاکرات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب تک لبنان کو ان اقدامات سے کوئی واضح اور عملی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے مارونی کلیسیا کے سربراہ بشارہ پاتریارک کے سابقہ اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ اس طرز کی بات چیت روکنے اور زیادہ واضح قومی مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
لبنانی مصنف نے خبردار کیا کہ جنوبی لبنان کی صورتحال کے بارے میں غیر واضح پالیسی اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنے سے گریز مستقبل میں بھی عوامی اور تاریخی احتساب کا باعث بنے گا۔
انہوں نے لبنانی حکام پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حملوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو واضح الفاظ میں بیان کریں اور ملک کی خودمختاری، عوام کے تحفظ اور قومی مفادات کے حوالے سے اپنی سیاسی ذمہ داری کھل کر ادا کریں۔
آپ کا تبصرہ