اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرینی مخالف گروہوں نے اپنے باقاعدہ اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں متعدد دینی علما کے خلاف مقدمات اور ان پر عائد الزامات کی مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ علما کے خلاف عدالتی کارروائی بحرین کی شیعہ برادری پر دباؤ بڑھانے اور اس کی مذہبی و سماجی شناخت کو محدود کرنے کی مسلسل حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔
مخالف گروہوں نے عدالت میں ہونے والی کارروائی کے ماحول پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ علما کے مقدمات کے دوران فرقہ وارانہ نوعیت کے بیانات اور اشتعال انگیز ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، جس کے باعث یہ کارروائی محض چند افراد کا مقدمہ نہیں بلکہ بحرین میں شیعہ برادری کے وجود اور تشخص کے خلاف مقدمہ بن گئی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ علما کے خلاف دباؤ، گرفتاری اور عدالتی کارروائی سے ان کا دینی و سماجی مقام ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی عوام اور ان کے مذہبی رہنماؤں کے درمیان تعلق توڑا جا سکتا ہے۔
بیان میں مخالف گروہوں نے اپنے سیاسی و احتجاجی اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اور انصاف کے حصول تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ دباؤ اور مذہبی تفریق کی پالیسی جاری رکھنے سے ملک میں موجود بحران ختم نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں سماجی اور مذہبی خلیج مزید گہری ہو سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ