اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے سابق سفیر برائے لبنان مجتبیٰ امانی نے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو تقریباً 70 دن گزر چکے ہیں، تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں اور لبنانی حکام بھی اب اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ معاہدہ اسرائیلی قبضے اور حملوں کے خاتمے میں مؤثر ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے ابنا کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے صدر اور وزیراعظم سمیت وہ حکام جو ابتدا میں اس معاہدے کو مسئلے کے حل کا مناسب یا واحد راستہ قرار دے رہے تھے، اب خود تسلیم کر رہے ہیں کہ اس سے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔
مجتبیٰ امانی کے مطابق نہ اسرائیلی قبضہ ختم ہوا، نہ حملے رکے اور نہ ہی لبنانی قیدیوں کا مسئلہ کسی نمایاں حد تک حل ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے ابتدا ہی سے اس معاہدے کی مخالفت کی تھی اور موجودہ صورتحال نے ثابت کردیا ہے کہ مزاحمت کے خدشات بے بنیاد نہیں تھے۔
حزب اللہ ایران سے کسی خاص کارروائی کی توقع نہیں رکھتی
ایران کے سابق سفیر نے حزب اللہ کی جانب سے ایران سے توقعات کے بارے میں کہا کہ یہ تحریک ہمیشہ اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرتی رہی ہے اور اسے یہ توقع نہیں تھی کہ ایران اس کی جگہ فیصلے کرے گا یا اس کی طرف سے فوجی کارروائی میں حصہ لے گا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے اور بعض اوقات ایران سے مدد یا حمایت کی اپیل بھی کی جاتی ہے، تاہم حزب اللہ کے فیصلے آزادانہ ہوتے ہیں۔
امانی نے مزید کہا کہ ایران نے اسرائیل کے حالیہ حملے سے قبل حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف کوئی مشترکہ فوجی کارروائی نہیں کی تھی۔ سات اکتوبر کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں بھی ایران اور حزب اللہ نے اپنے اپنے طور پر اقدامات کیے، جبکہ مزاحمت کے دیگر محاذوں نے بھی اپنی حکمت عملی اور حالات کے مطابق فیصلے کیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے لبنان میں حزب اللہ کی حمایت کے حوالے سے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور اس عزم کا اظہار سیاسی اور عملی دونوں سطحوں پر ہوچکا ہے۔
مجتبیٰ امانی نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل کے کسی اقدام کے خلاف ایران کی جانب سے ردعمل دیا جاتا ہے تو اس کا وقت، مقام اور طریقہ کار ایران اپنی حکمت عملی اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے خود طے کرے گا۔
آپ کا تبصرہ