31 اگست 2026 - 15:37
یادداشت | جنگ کے چھ ماہ بعد؛ قرآن کی ایک آیت اور خطے سے امریکی انخلا کا سوال

اگر آسودگی اور معاشی سہولت کی قیمت آزادی، عزت، خودمختاری اور اصولوں کی قربانی ہو تو سوال صرف معاشی خوشحالی کا نہیں رہتا، بلکہ یہ سوال بن جاتا ہے کہ اپنی پرواز برقرار رکھنے کے لیے ہم کتنی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، قرآن کریم کی سورۂ حشر کی دوسری آیت میں بنی نضیر کے واقعے اور مدینہ سے ان کے انخلا کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:

﴿هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ ۚ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَانِعَتُهُمْ حُصُونُهُمْ مِنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا...﴾

(سورۂ حشر: 2)

یہ آیت بنی نضیر کے اس انجام کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ ایک دن انہیں مدینہ سے نکلنا پڑے گا۔ وہ اپنی طاقت، قلعہ بندی اور مضبوط حیثیت پر بھروسا کرتے تھے، لیکن حالات نے بالآخر ایسا رخ اختیار کیا جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

آج بھی دنیا کے مختلف حصوں، بالخصوص ایران اور پاکستان کے مسلمانوں میں ایسے ہی سوالات زیر بحث ہیں۔ فروری 2026 سے جاری جنگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے بہت سے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کیا بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھ سکتی ہیں؟

بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ایران امریکا کے مقابلے میں چند دن سے زیادہ مزاحمت نہیں کرسکے گا، لیکن تقریباً چھ ماہ گزرنے کے باوجود یہ محاذ آرائی جاری ہے۔ اس عرصے نے بہت سے تصورات اور اندازوں کو تبدیل کردیا ہے۔

آج بھی کچھ لوگوں کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ امریکا ایک دن اس خطے سے نکل جائے گا۔ حالانکہ تاریخ میں ایسے کئی واقعات گزر چکے ہیں جن کے بارے میں ایک وقت میں یہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ کبھی رونما نہیں ہوں گے۔

جن لوگوں نے ایران میں پہلوی بادشاہت کا خاتمہ دیکھا، امریکا کا ایران سے نکلنا دیکھا اور عراق میں بعث پارٹی کی شکست کا مشاہدہ کیا، ان کے لیے بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا بسا اوقات مشکل دکھائی دیتا ہے کہ امریکا بھی ایک دن خطے سے اپنا انخلا مکمل کرسکتا ہے۔

گویا سورۂ حشر کی مذکورہ آیت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ طاقت اور مضبوط قلعے کسی بھی نظام کے دائمی وجود کی ضمانت نہیں ہوتے۔ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے اور طاقت کا موجودہ توازن بھی ہمیشہ برقرار نہیں رہتا۔

یقیناً آج مشکلات کم نہیں۔ مہنگائی میں شدید اضافہ ہوا ہے، معیشت مشکل حالات سے گزر رہی ہے اور عوام کو سخت معاشی دباؤ کا سامنا ہے، لیکن معاشی مشکلات کو لازماً ذلت یا شکست قرار نہیں دیا جاسکتا۔

لوگ اپنی استطاعت کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں، اپنے خاندانوں کی کفالت کررہے ہیں اور مشکلات کا مقابلہ کررہے ہیں۔ اس تصور کے ساتھ کہ حقیقی رزاق اللہ تعالیٰ ہے، امریکا نہیں۔

مہنگائی کے اثرات اور عوام پر پڑنے والے معاشی دباؤ سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن اسی کے ساتھ معاشرے کے ایک حصے میں موجود استقامت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

یہ درست ہے کہ معاشرے کا ایک حصہ شدید ناراضی کا اظہار کررہا ہے اور معاشی دباؤ تقریباً سبھی طبقات کو متاثر کررہا ہے، لیکن ہر مشکل کو شکست اور ہر بحران کو نظام کے خاتمے کی علامت سمجھنا بھی درست نہیں۔

جب انسان امامت کی راہ اختیار کرتا ہے تو علامہ محمد اقبال کے یہ اشعار اس کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں:

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رُخِ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے

اگر زندگی کی راہ مشکل تر ہوجائے تو ممکن ہے یہی مشکل وفاداری اور استقامت کا امتحان ہو۔

بعض لوگ ایسی باتوں کو محض جذباتی تسلی قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ زمینی حقائق کو صرف معاشی اعداد و شمار یا ظاہری طاقت کے پیمانے سے ہی کیوں ناپا جائے؟

مادی اعتبار سے بھی امریکا اور اس کے اتحادی مختلف دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ امریکا اپنے اتحادیوں پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے زور دے رہا ہے، جبکہ یورپ میں دفاعی صلاحیت اور اسلحے کے ذخائر سے متعلق تشویش بھی سامنے آتی رہی ہے۔

دوسری جانب ایران کو بھی شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ، مہنگائی اور عوام پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ ایسی حقیقتیں ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن علامہ اقبال کے الفاظ میں اصل سوال صرف رزق اور مادی آسائش کا نہیں بلکہ اس آزادی کا بھی ہے جو انسان کو اپنی پرواز برقرار رکھنے کے قابل بناتی ہے:

اے طائرِ لاہوتی! اُس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

یعنی وہ رزق جس کے نتیجے میں انسان اپنی پرواز اور آزادی کھو دے، اس رزق سے محرومی بہتر ہے۔

آخرکار بنیادی سوال یہ نہیں کہ آج ہماری جیب میں کتنی رقم ہے؛ سوال یہ ہے کہ ہم کس قیمت پر زندہ رہنا چاہتے ہیں؟

اگر آسودگی، معاشی سہولت اور ظاہری سکون کی قیمت آزادی، عزت، خودمختاری اور اصولوں کی قربانی ہو تو معاملہ صرف معاشی خوشحالی کا نہیں رہتا۔ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ اپنی پرواز، آزادی اور اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے ہم کتنی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں؟

تحریر: سید کمیل نقوی — تہران، 29 اگست 2026

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha