اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین ہیومن رائٹس فورم نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کو دو رپورٹس پیش کی ہیں۔ کمیٹی اپنے 146ویں اجلاس میں 19 اکتوبر سے 6 نومبر 2026 تک بحرین میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔
رپورٹ کے مطابق، پہلی دستاویز میں یکم جنوری سے 22 اگست 2026 تک بحرین میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس دوران 825 افراد کی مبینہ من مانے طریقے سے گرفتاری اور 374 افراد کو طلب کیے جانے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں آزادیِ اظہار، پُرامن اجتماعات اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی، مذہبی آزادی میں رکاوٹیں، جبری گمشدگی، تشدد اور شہریت سے محرومی سمیت متعدد معاملات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
دوسری رپورٹ بین الاقوامی مرکز برائے حقوق و آزادی کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، جس میں خاص طور پر شیعہ علما اور جعفری مذہبی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 6 مارچ سے 24 جون 2026 کے درمیان 59 شیعہ علما کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 44 علما کو 9 مئی کو ان کے گھروں پر چھاپوں کے دوران ایک ہی دن گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں زیرِ حراست افراد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، دھمکیوں، دباؤ اور فرقہ وارانہ توہین کے علاوہ وکلا اور عدالتی ریکارڈ تک رسائی محدود کیے جانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں شیعہ مذہبی اداروں اور مذہبی رسومات پر عائد پابندیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں جعفری اوقاف، حسینیوں، عزاداری کے جلوسوں اور مذہبی اجتماعات سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جولائی 2026 میں 53 حسینیوں نے مختلف اقدامات اور پابندیوں کے باعث عزاداری کے جلوس منعقد نہ کیے جانے کی اطلاع دی۔
بحرین ہیومن رائٹس فورم اور اس کے شراکت دار ادارے نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحرینی حکام کے سامنے ان معاملات کو اٹھائے اور مذہب و عقیدے، آزادیِ اظہار اور پُرامن اجتماع کی آزادی، منصفانہ عدالتی کارروائی اور تشدد، بدسلوکی و امتیاز سے شہریوں کے تحفظ کی ضمانت دینے پر زور دے۔
آپ کا تبصرہ