27 اگست 2026 - 15:58
ولید جنبلاط کا امریکی سفیر کو جواب؛ ’’تین فریقی فارمولے‘‘ کے بجائے طائف معاہدے اور قرارداد 1701 پر زور

لبنان کے سابق رہنما ولید جنبلاط نے امریکی سفیر میشل عیسیٰ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ’’تین فریقی فریم ورک‘‘ کو مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ اسے ایسے جنگ بندی معاہدے سے تبدیل کیا جائے جس کی بنیاد طائف معاہدے اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر ہو۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان میں امریکی سفیر میشل عیسیٰ نے دروز فرقے کے روحانی سربراہ شیخ سامی ابی المنیٰ سے ملاقات کے بعد سابق سربراہ ترقی پسند سوشلسٹ پارٹی ولید جنبلاط کے مؤقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنبلاط ’’ایک دن کچھ چاہتے ہیں اور دوسرے دن کچھ اور‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مستقبل قریب میں جنبلاط سے رابطہ کریں گے۔

میشل عیسیٰ نے مزید دعویٰ کیا کہ لبنانی اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ حزب اللہ کا اسلحہ ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، لبنان کے صدر جوزاف عون اور حزب اللہ کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ رابطہ بھی موجود ہے۔

امریکی سفیر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ مسلسل اسرائیل سے اپنے حملے روکنے یا کم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، تاہم ان کے بقول حزب اللہ نے اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

امریکی سفیر کے ان بیانات پر ولید جنبلاط نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ میشل عیسیٰ اپنی مختلف سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں کے دوران ان کے اُس مؤقف کا مطالعہ نہیں کر سکے جس میں انہوں نے نام نہاد ’’تین فریقی فریم ورک‘‘ کے حوالے سے اپنا موقف واضح کیا تھا۔

جنبلاط نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ مذکورہ فریم ورک کے مخالف ہیں اور اسے ایسے جنگ بندی معاہدے سے تبدیل کیا جانا چاہیے جس کا حوالہ طائف معاہدے اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 میں موجود ہے۔

جنبلاط کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لبنان میں موجودہ صورتحال کے حل کے لیے کسی نئے فارمولے کے بجائے پہلے سے طے شدہ سیاسی اور بین الاقوامی معاہدوں کو بنیاد بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک طائف معاہدہ اور قرارداد 1701 لبنان کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال کو منظم کرنے کے لیے زیادہ موزوں بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha