27 اگست 2026 - 15:48
لبنان میں امارات کے بڑھتے قدم؛ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سے حکومتی ڈھانچے تک رسائی کا منصوبہ

لبنان اور امارات کے درمیان اقتصادی تعاون میں تیزی کے دوران بیروت اور طرابلس کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈے سمیت اہم تزویراتی اثاثوں میں اماراتی سرمایہ کاری کی اطلاعات نے ابوظہبی کے اصل مقاصد پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بیروت میں لبنان اور امارات کے اقتصادی اجلاس میں امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ثانی بن احمد الزیودی کی سربراہی میں تقریباً 90 رکنی وفد نے شرکت کی۔ اجلاس میں دونوں جانب سے تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور لبنان کی تعمیر نو کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے کاروباری نمائندوں نے تجارت، صنعت، سیاحت، ٹیکنالوجی، توانائی، بینکاری، بنیادی ڈھانچے اور خدمات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر دوطرفہ مذاکرات کیے۔ اس موقع پر پانچ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جبکہ لبنان اور امارات کی مشترکہ کاروباری کونسل بھی قائم کی گئی۔

تاہم بعض تجزیوں کے مطابق امارات کی اس وسیع موجودگی کو محض اقتصادی سرگرمی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اسے لبنان میں جاری سیاسی تبدیلیوں اور خطے میں جاری مسابقت کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

روزنامہ الاخبار کے مطابق، ابوظہبی لبنان میں سعودی عرب کی کم ہوتی اقتصادی موجودگی سے پیدا ہونے والی خلا کو پُر کرنے اور اہم اقتصادی شعبوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی تناظر میں بیروت بین الاقوامی ہوائی اڈے کے علاوہ بیروت اور طرابلس کی بندرگاہوں کو اماراتی سرمایہ کاروں کی خصوصی توجہ کے حامل اہم منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ امارات ان گزرگاہوں پر سامان، رقوم اور مسافروں کی نقل و حرکت کے انتظام سے متعلق منصوبوں کے علاوہ بعض سرکاری خدمات کے نظام، بشمول شناختی دستاویزات اور پاسپورٹ کے اجرا سے متعلق شعبوں میں بھی کردار حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

تجزیوں کے مطابق یہ معاملہ محض معمول کی سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ لبنان کے اہم اقتصادی اور حکومتی ڈھانچے میں طویل مدتی اماراتی اثر و رسوخ کا باعث بن سکتا ہے۔

مجموعی طور پر بیروت اور ابوظہبی کے درمیان اقتصادی تعلقات میں نئی پیش رفت کو لبنان کے اہم بنیادی ڈھانچے میں اماراتی موجودگی بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب لبنانی حکومت سرکاری اثاثوں کی نجکاری اور بعض اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہے، جس سے ایک طرف سرمایہ کاری اور تعمیر نو کے امکانات پیدا ہوتے ہیں تو دوسری طرف حساس قومی اثاثوں کی ملکیت اور ان پر بیرونی اثر و رسوخ کے حوالے سے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha